Home History ملا دوپیازہ کے دلچسپ واقعات

ملا دوپیازہ کے دلچسپ واقعات

by bigsocho
0 comment

تاریخ ایسے انسانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے کمالات سے دنیا کو دنگ کردیا۔ ان میں سے کچھ کردار اپنی جنگی مہارت کے باعث تاریخ میں زندہ ہیں تو کچھ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر رہتی دنیا کے لئے نمونہ بن گئے۔ کچھ اپنی سنجیدہ طبیعت کے ساتھ دنیا پر راج کر گئے تو کچھ اپنی ظرافت کے باعث نام کما گئے۔ 

آج کی ہماری ویڈیو بھی ایک ایسے ہی ظریف اور شوخ طبیعت کے مالک تاریخی کردار مُلا دو پیازہ کے متعلق ہے۔ مُلا دو پیازہ کون تھے، شہنشاہ اکبر کے دربار میں ان کو کیا عہدہ مُلا ہوا تھا، انہیں دو پیازہ کیوں کہا جاتا تھا، شہنشاہ اکبر کے مصاحب خاص بیربل کے ساتھ ان کی نوک جھونک اور ان کی زندگی کے کئی دلچسپ واقعات آپ جانیں گے آج کی اس ویڈیو میں۔۔۔

مُلا دو پیازہ کا بچپن

دوستو مُلا دو پیازہ جن کا اصل نام ابو الحسن تھا، 1542 عیسوی میں مکہ مکرمہ کے نواحی شہر طائف میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے نہایت ظریف اور شریر طبیعت کے مالک تھے۔ مکتب میں ان کی شرارتیں کافی مشہور تھیں۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بار انہوں نے اپنے ایک ہم جماعت کی کتاب اپنے استاد کے بستے میں چھپا دی۔ بچے نے جب کتاب کی گمشدگی کے بارے میں استاد کو بتایا تو استاد نے اعلان کیا کہ جس کے بستے سے کتاب ملے گی اس کا منہ کالا کیا جائے گا۔ ابو الحسن سیاہی اور دوات لے کر کھڑے ہوگئے۔ سب بچوں کے بستے دیکھے گئے لیکن کتاب نہ ملی۔ ابو الحسن نے کہا صرف استاد صاحب کا بستہ رہ گیا ہے وہ بھی دیکھ لینا چاہیے۔ استاد صاحب کا بستہ دیکھا گیا تو کتاب اس میں سے نکل آئی۔ ابو الحسن آگے بڑھے اور فرمایا: جی استاد محترم میں سیاہی اور دوات لے آیا ہوں، کیا حکم ہے۔۔؟ 

دوستو ابو الحسن کے والد کا نام ابوالمحاسن تھا۔ انہوں نے دو شادیاں کی تھیں لیکن ان کی دوسری شادی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہو سکی اور ایک دن وہ اپنی بیوی سے لڑ پڑے اور گھر چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔ کم عمر ابو الحسن جنہیں باپ سے انتہائی لگاو تھا، باپ کی جدائی کو برداشت نہ کر پائے اور تیسرے دن ہی باپ کو ڈھونڈنے نکل پڑے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے انہیں ایک ایران جانے والا قافلہ مُلا تو اس کے ساتھ ہو لئے اور ایران آگئے۔ 

مُلا دو پیازہ کی ہندوستان آمد

دوستو انہی دنوں شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد مغل شہنشاہ ہمایوں بھی اپنے کچھ ساتھیوں سمیت ایران میں موجود تھا۔ ہمایوں کے ایک مصاحب خاص مرزا بخش اللہ خان کی مُلاقات اس کمر عمر بچے ابو الحسن سے ہوئی اور وہ اس کی شوخ طبیعت کے گرویدہ ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد جب ہمایوں ہندوستان واپس پلٹا تو ابو الحسن بھی اسی قافلے کے ساتھ ہندوستان آ گئے۔ ابو الحسن چونکہ عربی تھے اس لئے ان کی تلاوت بہت خوبصورت تھی سو انہیں دہلی کی ایک مسجد میں امامت کا موقعہ مل گیا۔ 

ابو الحسن سے مُلا دو پیازہ

دوستو ہندوستان آکر ابو الحسن جلد ہی مختلف محفلوں اور مجلسوں میں بلائے جانے لگے۔ ظریفانہ طبیعت اور شوخ و چنچل باتوں کی بدولت وہ کافی مشہور ہوگئے۔ ایک بار شہنشاہ اکبر کے ایک مصاحب ابوالفضل فیضی نے انہیں دعوت پہ بلایا۔ وہاں ہندوستان کی ایک مشہور ڈش دو پیازہ بنوائی گئی۔ انہیں یہ ڈش اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ آئندہ وہ صرف ایسی دعوت میں شریک ہوں گے جس میں دو پیازہ موجود ہوگی۔ اور پھر ان کی اس رغبت کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے ان کا نام مُلا دو پیازہ رکھ دیا۔ 

شہنشاہ اکبر کے دربار میں آمد

دوستو مُلا دو پیازہ کی دلچسپ باتیں اور لطائف جلد ہی دلی میں کافی مشہور ہوگئے۔ ان کی یہ باتیں شاہی دربار میں بھی پہنچنے لگیں اور ایک دن ان کی قسمت کا ستارہ چمکا اور شہنشاہ اکبر نے انہیں اپنے دربار میں بلوا لیا۔ شروع میں انہیں عام سا ایک عہدہ دیا گیا لیکن جلد ہی وہ اکبر کے مصاحب خاص بن گئے اور مرتے دم تک اسی عہدے پر رہے۔ 

مُلا دو پیازہ کے چند مشہور لطائف

نیکی میں بدی

ایک بار شہنشاہ اکبر نے مُلا دو پیازہ سے پوچھا کہ کوئی ایسا کام بتاؤ کہ نیکی میں بدی ہو جائے۔ مُلا نے کچھ دیر سوچا اور بولے مجھے بہت بھوک لگی ہے میں پہلے کھانا کھاؤں گا۔ شہنشاہ نے فوراً کھانا پیش کرنے کا حکم دیا۔ کھانا آیا تو مُلا دو پیازہ وہ کھانا لے کر گھر جانے کو تیار ہوئے۔ شہنشاہ نے کہا گھر جاکر نہیں کھانا بلکہ یہیں کھانا کھا کر ہمارے سوال کا جواب دو۔ ناچار مُلا نے وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا اور پھر گھر جانے لگے۔ شہنشاہ نے پھر کہا کہ کھانا کھا لیا اب ہمارے سوال کا جواب دو۔ مُلا نے فوراً عرض کہ میں جواب دے چکا ہوں۔ شہنشاہ نے کہا ہمیں تو کوئی جواب نہیں مُلا۔ مُلا نے عرض کی کہ آپ نے کھانا کھلا کر نیکی کی اور مجھے کھانا ساتھ لے جانے سے منع کرکے بدی کردی۔ یہی نیکی میں بدی ہوتی ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نہایت شرمندہ ہوئے۔  

ایرانی عالم سے مباحثہ 

دوستو ایک اور مشہور لطیفہ ہے کہ مُلا دو پیازہ کی شہرت کا سن کر ایک ایرانی عالم دلی تشریف لے آئے۔ ان کے کہنے پر دربار میں دونوں کی ذہانت کا مقابلہ طے پا گیا لیکن اس مقابلے میں دونوں فریقوں نے اشاروں کی زبان میں باتیں کرنی تھیں۔ ایرانی عالم نے پہل کی اور ایک انگلی اٹھائی جس کے جواب میں مُلا دو پیازہ نے دو انگلیاں اٹھائیں۔ عالم نے ہتھیلی آگے کی تو مُلا نے مکا بنا کر آگے کیا۔ عالم نے ایک انڈا نکال کر سامنے کیا تو مُلا دو پیازہ نے پیاز آگے رکھ دیا۔ یہ سب دیکھ کر ایرانی بہت متاثر ہوا اور ہار مان لی۔ وہ ہار مان کر جب ایران پہنچا تو لوگوں نے پوچھا کہ مقابلہ کیسے ہار گئے تو اس نے کہا کہ میں نے مُلا دو پیازہ کے آگے ایک انگلی اٹھائی کہ اللہ ایک ہے تو اس نے دو انگلیاں اٹھائیں جس کا مطلب تھا کہ ایک مسلمان کے لئے اللہ پہ ایمان کے علاوہ رسول اللہؐ پہ ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ پھر میں نے ہتھیلی آگے کی کہ کائنات ہتھیلی کی طرح وسیع ہے تو اس نے مٹھی بنا کر دکھائی کہ جتنی بھی وسیع ہو سب اللہ کے قبضے میں ہے۔ پھر میں نے انڈا سامنے رکھا کہ دنیا انڈے کی طرح گول ہے تو اس نے پیاز سامنے رکھا کہ زمین گول ہے لیکن آسمان اس پیاز کی پرتوں کی طرح تہہ در تہہ ہیں۔ 

دوسری جانب جب اکبر نے مُلا سے احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایرانی عالم نے انگلی دکھا کر کہا میں تمہاری آنکھ پھوڑ دوں گا تو میں نے دو انگلیاں دکھا کر کہا کہ میں تمہاری دونوں آنکھیں پھوڑ دوں گا۔ پھر اس نے ہتھیلی دکھا کر کہا کہ میں تمہیں تھپڑ ماروں گا تو میں نے مکا دکھا کر کہا کہ میں مکا مار دوں گا پھر اس نے انڈا دکھایا تو میں نے پیاز نکال کر دکھایا کہ دونوں کو اکٹھا پکایا جاتا ہے۔ یہ سب سن کر شہنشاہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے۔ 

مہربان  

دوستو بیربل جو کہ شہنشاہ اکبر کے ایک خاص مصاحب تھے، مُلا دو پیازہ اور اس کے درمیان کبھی نہیں بنی۔ ان کے درمیان ہر وقت مقابلہ بازی چلتی رہتی تھی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک بار راجہ بیربل کسی سفر سے واپس آکر شہنشاہ اکبر سے سفر کی مصبیتیں بیان کر رہے تھے۔ کہنے لگے جس نام کے آخر میں بان آتا ہے وہ بہت ہی شریر اور بدمعاش ہوتے ہیں۔ جیسے فیل بان، کشتی بان، ساربان وغیرہ۔۔۔ وہیں قریب ہی مُلا دو پیازہ بھی یہ بات سن رہے تھے، وہ جھٹ سے بولے۔۔ آپ بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں مہربان،۔۔ ان کی اس بات پہ شہنشاہ ہنس پڑے۔۔

دروازہ بہت بڑا ہے

ایک بار کسی شخص ن ے نیا مکان بنوایا تو مُلا دو پیازہ اور بیربل دونوں کو دعوت پہ مدعو کیا۔ دعوت سے واپسی پر راجہ بیربل نے کہا مکان تو اچھا ہے لیکن دروازہ بہت چھوٹا ہے اس میں سے تو مردے کی چارپائی نکالنا بھی مشکل ہے۔ ان صاحب کو بہت غصہ آیا اور مُلا سے شکایت کی۔ مُلا نے کہا بیربل تو ہے ہی بدخواہ۔۔۔ آپ فکر نہ کریں آپ کا دروازہ اتنا بڑا ہے کہ آپ پورے خاندان کے جنازے اکٹھے بآسانی یہاں سے نکال سکتے ہیں۔  

باپ

ایک بار مُلا نگاہ نیچی کرکے جا رہے تھے کہ راستے میں راجہ بیربل مل گئے۔ کہنے لگے مُلا نگاہ نیچی کرکے کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ مُلا نے جواب دیا میرا باپ گم ہوگیا ہے وہی ڈھونڈ رہا ہوں۔ راجہ بیربل نے شرارت سے کہا اگر میں ڈھونڈ دوں تو کیا دو گے۔ مُلا نے فوراً جواب دیا۔ اگر تم نے ڈھونڈ لیا تو میرا باپ آج سے تمہارا باپ۔۔۔

 مُلا کی عجیب و غریب شرارت

ایک اور مشہور لطیفہ ہے کہ ایک بار شہنشاہ اکبر نے مُلا سے کہا کہ کوئی ایسی شرارت کرو جو آج تک کسی نے نہ کی ہو۔ مُلا نے دو دن مانگے لیکن دو دن بعد وہ کوئی شرارت نہ کر سکے۔ شہنشاہ نے ناراض ہو کر انہیں شہر بدر کردیا۔ مُلا ایک گاوں میں آگئے، داڑھی مونچھ منڈوائی اور وہاں ایک ٹیلے پر سفید لباس پہن کر بیٹھ گئے۔۔ کچھ لوگوں نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو اللہ کی پہنچی ہوئی ہستی سمجھے اور اس کا ذکر شہنشاہ سے کیا۔ شہنشاہ ان کے پاس حاضر ہوئے تو مُلا نے ان سے کہا کہ میں ایک فرشتہ ہوں اور آپ کو جنت کا لباس زیب تن کروانا چاہتا ہوں لیکن اس لباس کی یہ خاص بات ہے کہ یہ کسی بدکار کو نظر نہیں آتا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اجازت دے دی۔ مُلا نے اجازت ملنے کے بعد بادشاہ سلامت کا لباس اتارا اور صرف زیر جامہ چھوڑ دی۔ پھر کچھ ایسی حرکات کیں جیسے وہ بادشاہ سلامت کو لباسِ جنت زیب تن کروا رہے ہیں۔ اب وہاں کھڑے تمام لوگ یہ دیکھ رہے تھے کہ بادشاہ سلامت کے جسم پر کوئی لباس نہیں۔ خود بادشاہ کو بھی نظر آرہا تھا کہ ان کا جسم بے لباس ہے لیکن کوئی بھی اس ڈر سے نہیں بول رہا تھا کہ لوگ انہیں بدکار سمجھیں گے۔ بادشاہ سلامت اسی حالت میں شاہی دربار آئے تو دربار میں بھی سب نے کہا واہ کیا لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ اب بادشاہ کو شک ہوا کہ شاید صرف وہی بدکار ہیں۔ اپنے ہجرے میں گئے اور بیگمات سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے جسم پر واقعی کوئی لباس نہیں ہے اور کوئی آپ کو پاگل بنا گیا ہے۔ شہنشاہ کافی شرمندہ ہوئے اور اس مکار کو ڈھونڈ لانے کا حکم دیا۔ لیکن مُلا وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔ پھر اعلان ہوا کہ اگر وہ مکار شخص خود حاضر ہو جائے تو اسے دو ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ مُلا نے سنا تو فوراً دربار میں حاضر ہوئے اور کہا میں ہی وہ شخص۔۔ شہنشاہ نے اس شرارت کی وجہ پوچھی تو مُلا نے جھٹ سے کہا کہ آپ نے خود ہی کہا تھا کہ کوئی ایسی شرارت کرو جو آج تک کسی نے نہ کی ہو۔ مُلا کی بات سن کر شہنشاہ ہنس پڑے۔ 

مُلا دو پیازہ کی وفات

دوستو مُلا پیازہ نے اپنی ساری زندگی شاہی دربار میں گزاری۔ آخری وقت میں شہنشاہ اکبر جب دکن گئے تو یہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ حیدر آباد پہنچے تو وہاں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور کچھ ہی دن بعد ایک قصبے ہنڈیا میں 1599 میں مُلا دو پیازہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ 

You may also like

Leave a Comment

error: Content is protected!!
urUrdu