Home History چین کی ترقی کا سفر

چین کی ترقی کا سفر

by bigsocho
0 comment

دوستو چین جلد ہی امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی اکانومی بننے جا رہا ہے اور اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ آئندہ دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور بھی وہی ہو گا۔ آج چین دنیا کے بڑے ایکسپورٹرز میں شامل ہے۔ دوہزار اٹھارہ میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والی گھریلو مصنوعات کا اٹھارہ اعشاریہ چھے فیصد حصہ چین نے ایکسپورٹ کیا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں اکتالیس فیصد کمپیوٹر، چونتیس فیصد ائرکنڈینشرز اور ستر فیصد موبائل چین ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ 

چین کی اس شاندار ترقی کا سفر کیسے طے ہوا؟

دوستو چین کی ترقی کا سفر دو مرحلوں میں طے ہوا ہے۔ پہلا مرحلہ انیس سو انچاس کے چینی کمیونسٹ انقلاب سے شروع ہوا اور ستر کی دہائی تک جاری رہا۔ دوسرا مرحلہ انیس سو چھہتر میں جدید چین کے بانی ماؤ زے ڈانگ کی موت کے بعد شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ 

دوستو چین کی ترقی کا پہلا مرحلہ وہ تھا جس میں چینی رہنما ماؤ زے ڈانگ اپنے کمیونسٹ آئیڈیاز کے تحت باقی دنیا سے الگ تھلگ، آئسولیشن میں رہ کر چین کو ترقی دینے کی کوشش کرتے رہے۔ انیس سو انچاس میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد انہوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ چین کو خالـص کمیونسٹ نظریات کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنائیں گے۔ چونکہ امریکہ اور یورپ سرمایہ دارانہ نظام یعنی کیپیٹلزم پر یقین رکھتے تھے اور ماؤ کے نزدیک کیپیٹلزم لوٹ مار کی جڑ تھی اس لئے انہوں نے ان سب ممالک سے تجارتی تعلقات ختم کر لئے اور فیصلہ کیا کہ چین اپنی ضرورت کی ہر چیز خود تیار کرے گا تاکہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ اب چونکہ کمیونزم میں نجی ملکیت یا پرائیویٹ اونرشپ اور کاروبار کا کوئی تصور ہی نہیں ہے سب کاروبار حکومت کی سرپرستی میں چلتے ہیں اور اسی کی ملکیت ہوتے ہیں، اس لئے ماؤ نے بھی حکومتی سرپرستی میں بڑے بڑے پراجیکٹ لانچ کر دیئے۔ چونکہ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اس لئے ماؤ کو یقین تھا کہ چینی عوام کی مین پاور ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ 

ان کا سب سے بڑا پراجیکٹ تھا گریٹ لیپ فارورڈ یا آگے کی طرف عظیم چھلانگ۔ یہ پراجیکٹ چین میں بڑے پیمانے پر سٹیل یعنی فولاد کی تیاری کیلئے شروع کیا گیا تھا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سٹیل مشینری کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ تو ماؤ چاہتے تھے کہ چین سٹیل کی تیاری میں خودکفیل ہو جائے تاکہ اس سٹیل سے وہ مشینیں بنائے ان مشینوں سے انڈسٹری لگے اور چین میں بڑے پیمانے پر ترقی ہو۔ 

اس مقصد کیلئے انیس سو پچاس کی دہائی میں چین میں بڑے پیمانے پر فولاد تیار کرنے والی بھٹیاں لگائی گئیں اور شہروں سے بھی لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ان بھٹیوں پر کام کرنے کیلئے بھیجا گیا۔ یہ پراجیکٹ تو بہت ایمبیشیس تھا اور اس پر تیز رفتاری سے کام بھی ہوا لیکن اس ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بھی پیدا ہو گئی۔ چونکہ  چین کی حکومت صرف سٹیل کی بھٹیوں پر توجہ دے رہی تھی زراعت کو اس نے بالکل نظرانداز کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ کسانوں سے بھی زبردستی بھٹیوں میں کام کرایا جا رہا تھا۔ اس وجہ سے چین میں خوراک کی پیداوار کم ہونے لگی۔ پھر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جو تھوڑی بہت فصل اگائی جا رہی تھی وہ بھی تباہ ہو گئی۔ چنانچہ بھٹیوں میں کام کرنے والے لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ بھوک سے بیتاب لوگ جب سرکاری گوداموں سے کھانا چرانے کی کوشش کرتے تو انہیں قتل کر دیا جاتا۔ چند ہی برس میں کروڑوں انسان اس ناکام معاشی تجربے کی بھینٹ چڑھ گئے چنانچہ یہ پراجیکٹ بند کرنا پڑا۔ 

اس پراجیکٹ کی ناکامی کا عوامی ردعمل بھی ظاہر ہے جلد ہی سامنے آ گیا۔ عوام میں کمیونزم سے نفرت پھیلنے لگی اور ماؤ کی سیاسی طاقت کم ہو گئی۔ چنانچہ ساٹھ کی دہائی میں ماؤ نے اپنی سیاسی طاقت واپس حاصل کرنے کیلئے کلچرل ریولوشن یا ثقافتی انقلاب شروع کر دیا۔ اس انقلاب میں چینی نوجوانوں نے کمیونسٹ انقلاب کے مخالفین کو چن چن کر مارا یا سخت سزائیں دیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے بھی لاکھوں رکن مارے گئے۔ لیکن اس کلچرل ریولوشن سے چین بیرونی دنیا سے بالکل ہی آئیسولیٹ ہو گیا اور اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ اب چین میں لوگوں کو یہ سمجھ آنے لگی کہ اگر ترقی کرنی ہے تو اس کیلئے پرائیویٹ اونرشپ، غیرملکی سرمایہ کاری اور نئے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔ چنانچہ چین کی لیڈرشپ جو پہلے کمیونزم کا نعرہ لگاتی تھی اس نے اب چین میں کپیٹیل ازم یعنی سرمایہ دارانہ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ 

اس حوالے سے پہلا چیلنج تھا امریکہ اور یورپی ممالک سے تعلق بہتر کرنا کیونکہ یہی ممالک عالمی مارکیٹ پر چھائے ہوئے تھے۔ جس کے بعد چین اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنا شروع ہوئی۔ اس میں پاکستان نے بھی چین اور امریکہ کا پورا پورا ساتھ دیا۔ انیس سو اکہتر میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان سے ایک طیارے میں خفیہ دورے پر چین گئے۔ اس کے بعد انیس سو بہتر میں  امریکی صدر ریچرڈ نکسن نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ یوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آنے لگی۔ یہ چین کا ترقی کی طرف ایک اہم قدم تھا اب چین اپنی ترقی کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جا رہا تھا یعنی کمیونزم سے مارکیٹ اکانومی یا کیپٹیل ازم کی طرف قدم بڑھانے والا تھا۔ مگر اس کیلئے نئی لیڈرشپ کی ضرور تھی اور وہ لیڈرشپ چین کو ملی ڈینگ ژیاؤ پنگ سے۔ 

انیس سو چھہتر میں جب ماؤ کی وفات ہوئی تو اس کے کچھ عرصے بعد ڈینگ ژیاؤ پنگ چین کے سپریم لیڈر بن گئے۔  ڈینگ کمیونزم کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام کو چین کا معاشی سٹرکچر بنانے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھے۔ چانچہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے پیمانے پر ریفارمز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ وہ فروری انیس سو اناسی میں امریکہ کے دورے پر گئے۔ چین کے کسی کمیونسٹ سربراہ کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے سے پوری دنیا میں یہ تاثر پھیلا کہ چین اب کمیونزم چھوڑ کر باقی دنیا کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہے۔

ڈینگ ژیاؤ پنگ نے امریکہ سے واپس آ کر چین کو غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے زیادہ پرکشش بنانے کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔ انہوں نے چین میں پرائیویٹ اونر شپ کی اجازت دی اور چین میں چار سپیشل اکانومک زونز بنوائے۔ ان اکونامک زونز میں ہزاروں فیکٹریاں قائم کی گئیں جنہیں اپنا سامان ویسٹرن کنٹریز کو بھی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت تھی۔ فیکٹریوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گوانگ ڈونگ صوبے کے اکونامک زون میں پندرہ سو فیکٹریاں صرف کھلونے تیار کرتی تھیں۔ اکونامک زونز کی تمام فیکٹریاں پرائیویٹ اونرشپ میں بنائی گئی تھیں، ان پر ٹیکس بھی کم رکھے گئے تھے اور حکومت کی طرف سے ان کی پروڈکشن کی لمٹ پر کوئی پابندی بھی نہیں تھی۔ چنانچہ جب چین نے ان اکانومک زونز میں تیار ہونے والی مصنوعات، پراڈکٹس کو عالمی مارکیٹ میں بھیجنا شروع کیا تو یہ پراڈکٹس زیادہ کامیاب رہیں کیونکہ اپنے کمپیٹیٹرز سے، دوسرے ممالک کی پراڈکٹس سے سستی تھیں۔ یوں عالمی مارکیٹ میں چین کے تیار کردہ سامان کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی اور چین کو اربوں ڈالر کا ریونیو حاصل ہونے لگا۔ انیس سو اسی میں چین کا جی ڈی پی جو صرف ایک سو اکانوے ارب ڈالر تھا وہ انیس سو نوے تک تین سو ساٹھ ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

ڈینگ ژیاؤ پنگ کے اکانومک زونز کا یہ تجربہ ماؤ کی گریٹ لیپ فارورڈ سے کہیں زیادہ کامیاب رہا۔ جن علاقوں میں یہ اکانومک زون بنائے گئے تھے وہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شاندار شہر بن گئے۔ ان میں س ایک اکانومک زون ماہی گیریوں کا گاؤں شینزین Shenzhenتھا۔ جس ک ی آبادی انیس سو اسی میں صرف انسٹھ ہزار تھی مگر آج یہ شہر ایک کروڑ سے زائد آبادی والا جدید ترقی یافتہ شہر بن چکا ہے۔ 

اسی کی دہائی کے آخر تک ان اکنامک زونز نے چین کو ایک بڑی معاشی طاقت میں تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم چائنیز حکومت اب بھی اپنے کمیونسٹ بیک گراؤنڈ کی وجہ سے اکانومک زونز جیسی ریفارمز باقی ملک میں نہیں کر رہی تھی۔ لیکن پھر انیس سو نواسی میں ایک ایسا واقعہ ہو گیا کہ چائنیز حکومت نے ان ریفارمز کو  پورے ملک میں نافذ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ 

ہوا یہ کہ انیس سو نواسی میں چین میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ ان دنوں کمیونسٹ دنیا کا برا وقت چل رہا تھا۔ افغانستان میں سوویت روس کو شکست ہو گئی تھی اور یہ عالمی سپرپاور جلد ہی ٹکڑے ٹکڑے ہونے والی تھی۔ سوویت روس کے خراب حالات کی وجہ سے مشرقی یورپ میں بھی کمیونزم کے خلاف جمہوری تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان تحریکوں سے ظاہر ہے چائنیز نوجوان بھی متاثر ہوئے کیونکہ چین بھی نام کی حد تک ہی سہی ایک کمیونسٹ ملک تو تھا اور یہاں صرف ایک پارٹی کی حکومت تھی جممہوریت نہیں تھی۔ عام لوگوں کے پاس نہ ووٹ کا حق تھا نہ انہیں اظہار رائے کی آزادی تھی۔ چنانچہ ہزاروں نوجوان چین میں جمہوریت لانے کیلئے بیجنگ کے تیان من سکوائر میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ چینی حکومت نے فوج کو ان لوگوں پر حملے کا حکم دیا۔ فوج نے ٹینکوں کی مدد سے عوام پر حملہ کیا، اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور جمہوریت کی یہ تحریک ناکام ہو گئی۔ 

مگر اس ناکام تحریک نے چینی حکومت پر واضح کر دیا تھا کہ اگر عوام میں ابھرتی ہوئی سیاسی بے چینی کو ختم کرنا ہے تو انہیں بے پناہ معاشی ترقی دینا ہو گی۔ اس لئے چین نے اپنی معیشت کو پوری طرح اوپن کر دیا اور اکانومک زونز سے جو ریفارمز شروع ہوئی تھیں انہیں پورے ملک میں پھیلا دیا۔ تیان من سکوائر واقعے کے اگلے ہی برس  انیس سو نوے میں شنگھائی اسٹاک ایکسیج دوبارہ کھول دی گئی۔ یوں چین کا کمیونسٹ اکانومی سے آخری ناطہ بھی ٹوٹ گیا اور وہ عالمی مارکیٹ سے براہ راست اٹیچ ہو گیا۔ انٹرنیشنل انویسٹرز چین میں بڑے پیمانے پر پیسہ لگانے لگے اور چین کی ترقی کی رفتار تیز ہو گئی۔ 

لیکن دوستو عالمی سرمایہ کاری کے باوجود شاید چین اتنی تیز رفتاری سے ترقی نہ کر سکتا جتنی رفتار سے وہ آج کر رہا ہے۔ تو پھر اس تیز رفتار ترقی کی وجہ کیا ہے؟ دوستو اس کی وجہ ہے جعلی مصنوعات، کاؤنٹرفیٹ پراڈکٹس۔ آج عالمی مارکیٹ میں آنے والی پچاسی فیصد نقلی اشیا چین میں تیار ہوتی ہیں۔ آج آپ کوئی سمارٹ فون، لگژری برینڈڈ بیگ یا نائیکی اور ناتھ فیس جیسے مشہور برینڈز کے کپڑے اور جوتے خریدیں تو شاید آپ کو یہ احساس نہ ہو پائے کہ یہ سامان اوریجنل برانڈز نے تیار نہیں کیا بلکہ چین کی کسی گمنام فیکٹری میں تیار ہوا ہے۔ اس کے علاوہ چائنیز مارکیٹ میں بیس  فیصد کاسمیٹکس بھی فیک ہیں، جعلی ہیں۔ دوہزار آٹھ میں سویٹس تیار کرنے والے اٹالین برانڈ فیریرو نے ایک چائنیز کمپنی کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ بھی جیتا تھا۔ چائنیز کمپنی اٹالین برانڈ کی ایک چاکلیٹ پراڈکٹ کی نقل تیار کر کے مارکیٹ میں سستے داموں بیچ رہی تھی۔

یوں دوستو چین نے عالمی مارکیٹ کو نقلی مگر سستی اشیا سے بھر کر اپنی ایکسپورٹس کو کئی گنا بڑھا لیا ہے اور اسی وجہ سے وہ اتنی تیز رفتاری سے ترقی بھی کر رہا ہے۔ لیکن اتنی بڑی مقدار میں نقلی اشیا تیار کرنے کے باوجود چین کو عالمی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ جب انیس سو اٹھانوے میں چین نے عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریٹی آرگنائزیش میں شامل ہونے کی کوشش کی تو امریکہ نے اس کی رکنیت کو سپورٹ کیا۔ امریکہ کے چین کو سپورٹ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن سمجھتے تھے کہ اس تنظیم کا رکن بن کر چائنہ اپنی ٹریڈ کو بیلنس کرے گا، غیرملکی سرمایہ کاروں کو چین سے فائدے ملیں گے اور چین کی جعلی مصنوعات کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بل کلنٹن ابھی چین کو امریکہ کیلئے کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھتے تھے کیونکہ انیس سو اٹھانوے میں امریکہ کا جی ڈی پی نو ٹریلین ڈالر یعنی نو ہزار ارب ڈالر تھا جبکہ چین کی اکانومی ابھی ون ٹریلین ڈالر یعنی ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچی تھی۔ ابھی دونوں ممالک کی اکانومیز میں بہت فرق تھا۔ مگر ڈبلیو ٹی او کا رکن بننے کے بعد آئندہ آنے والے برسوں میں چین کی ترقی کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی۔ 

معاشی میدان میں چین کو اس کی آبادی سے بھی بہت فائدہ پہنچا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کی وجہ سے چین کو یہ ایڈوانٹیج تو بہرحال حاصل ہے کہ یہاں کوئی بھی کاروبار شروع کیا جائے تو ڈیڑھ ارب کے قریب کسٹمر تو ملک کے اندر ہی ہیں یعنی باہر جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ پھر ان کسٹمرز کی ضروریات پوری کرنے کے بعد اگر کوئی پراڈکٹس بچ جائیں تو انہیں دنیا میں سستے داموں بیچا جا سکتا ہے۔ تو چین کے آبادی والے ایڈوانٹیج نے اکسیویں صدی میں بھی چین کی ترقی میں خوب مدد دی۔

اس دوران دوہزار آٹھ میں جب گلوبل ریسیشن آیا یعنی مارکیٹ کریش کر گئی تو چین ان ممالک میں شامل تھا جو اس بحران سے بہت جلد نکل آئے۔ عالمی بحران کی وجہ سے چونکہ چائنیز پراڈکٹس کی ڈیمانڈ بہت کم ہو گئی تھی اس لئے چین میں فیکٹریاں تیزی سے بند ہونے لگی تھیں۔ ان حالات میں چائنیز صدر ہوجن تاؤ نے اپنی عوام کو پیغام دیا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ پھر انہوں نے چائنیز انڈسٹری کیلئے پانچ سو چھیاسی ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کر دیا۔ یہ پیکیج ملنے کی وجہ سے چائنیز فیکٹریوں کا نقصان پورا ہو گیا اور وہ پھر سے اپنا کام کرنے لگیں۔ 

عالمی ریسیشن ختم ہونے کے بعد چین اب اپنی تیز رفتار ترقی میں ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے۔ چائنیز لیڈرشپ کو یہ گُر کی بات معلوم ہے کہ اگر اکانومی کو تیز کرنا ہے تو اس کے ساتھ پہیے لگانا ہوں گے۔ مطلب یہ کہ صرف فیکٹریوں میں سامان تیار کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسے کنزیومر تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ ہے جس کے تحت چین اب ستر کے قریب ممالک کے ساتھ فضائی، بحری اور زمینی روٹس بنا رہا ہے تاکہ سامان کی آمدورفت میں کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔  چین نے بارہ ہزار کلومیٹر طویل ریلوے لائن چھائی ہے جو چین کے ساحلی شہر ییوو yiwu سے لندن تک جاتی ہے۔ سی پیک منصوبہ جو ایسٹر چین کو پاکستان کے شہر گوادر کی بندرگاہ سے جوڑتا ہے وہ بھی اسی ون بیلٹ ون روڈے منصوبے کا حصہ ہے۔ چین نے اٹھارہ سو تینتیس کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا کر ترکمانستان سے گیس بھی حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ 

زبردست انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ کے بہترین ریسورسز کی وجہ سے آج چین امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی اکانومی بن چکا ہے۔ دوہزار اٹھارہ میں چین کا جی ڈی پی تیرہ ٹریلن ڈالر یعنی تیرہ ہزار ارب ڈالر تھا اور امریکہ کا جی ڈی پی بیس ٹریلین یعنی بیس ہزار ارب ڈالر۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ دوہزار پچیس میں چین کا جی ڈی پی بائیس ٹریلین ڈالرز یا بائیس ہزار ارب ڈالر ہو جائے گا جبکہ امریکہ ایک ہزار ارب ڈالر کے فرق سے دوسرے نمبر پر ہو گا۔ یعنی  صرف پانچ برس بعد دوہزار پچیس میں چین دنیا کی نمبرون معاشی طاقت ہو گا، اکانومک سپرپاور۔ یوں دوستو چین نے ستر برس کے اند کمیونزم کے ناکام تجربے سے کیپیٹل ازم والی مارکیٹ اکانومی کی کامیابی کا سفر طے کر لیا ہے۔ 

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چین کی ترقی کی اصل وجہ اس کا ون پارٹی سسٹم ہے، کیونکہ اس سسٹم میں اپوزیشن اور عدالتوں وغیرہ کا دباؤ نہ ہونے کی وجہ سے فیصلے جلد ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں دوسرے ممالک کو بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہیے۔ دوسری طرف چین کے مخالفین کا ماننا ہے کہ یہ ون پارٹی سسٹم ناکام ہے کیونکہ چائنیز عوام  مستقبل میں جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کی ڈیمانڈ کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو تیان من سکوائر جیسی سیچوئیشن دوبارہ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چین میں امیر اور غریب میں بڑھتے فرق سے بھی ایسا تصادم شروع ہونے کا خدشہ ہے جس سے چین کی ترقی کو بریک لگ جائے۔ یعنی چائنیز حکومت کیلئے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترقی کا یہ دوسرا مرحلہ جسے ماؤ کے بعد ڈینگ ژیاؤ پنگ نے شروع کیا تھا، وہ چین کو کامیابی کی بلندیوں پر لے جا چکا ہے۔ اب اسی ترقی کا تیسرا مرحلہ یعنی ون بیلٹ ون روڈ کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہے جسے ہماری نسل دیکھ رہی ہے۔ آنے والی نسلیں شاید چین کو معاشی کے بعد فوجی سپرپاور بنتا دیکھیں گی اور اس دور میں زندہ رہیں گی جب دنیا کے معاملات امریکہ کی نہیں بلکہ چین کی مرضی سے طے ہوں گے۔

You may also like

Leave a Comment

error: Content is protected!!
urUrdu