Home Interesting Facts ایلون مسک نے ٹوئٹر کیوں خریدا؟

ایلون مسک نے ٹوئٹر کیوں خریدا؟

by Adnan Shafiq
0 comment

آپ نے  مختلف چینلز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی یہ خبر تو ضرور دیکھ ہی چکے ہو نگے کہ  دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک مشہور سماجی رابطے کی کمپنی ٹویٹر خرید لی ہے- دوستو ایلون مسک نے یہ کمپنی کیوں خریدی؟ آخر وہ کیا تبدیلیاں ہیں جو خریداری کے بعد ایلون مسک ٹویٹر میں لانے کے خواہشمند ہیں؟ –

پس منظر

 4 اپریل 2022 کو یہ خبر آئی کہ ایلون مسک نے ٹویٹر کے 9.2 فیصد شئیرز خرید لئے ہیں-کمپنی کے خریدے گئے شئیرز کی کل مالیت تقریبا 2.9 بلین ڈالرز بنتی تھی-9.2 فیصد شئیرز خریدنے کے بعد اس وقت ایلون مسک کمپنی کے سب سے بڑے شئیر ہولڈر بن گئے تھے-جب یہ خبر آئی تو کمپنی کے شئیرز کی مالیت سٹاک ایکسچینج میں ایک دم 22 فیصد اوپر چلی گئی-لیکن دوستو کمپنی میں ایلون مسک کا یہ  Passive ،Stake تھا- یعنی وہ بے شک کمپنی کے سب سے بڑے شئیر ہولڈر تو تھے لیکن وہ کمپنی کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے یا کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتے تھے-

اب ذرا اس کا بیک گراؤند جان لیتے ہیں کہ انھوں نے یہ شئیرز کیوں خریدے اور وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔تو شئیرز کی خریداری سے چند روز قبل ایلون مسک نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ایک پول Create کیا جس میں انھوں نے لکھا “ایک فعال جمہوریت کے  لئے اظہار رائے کی آزادی ضروری ہے” پھر انھوں نے ٹویٹر صارفین سے پوچھا کہ “کیا آپ کے خیال میں ٹویٹر اس اصول پر عمل پیرا ہے؟” صارفین کو اس کا جواب ہاں یا ناں میں دینا تھا- انھوں نے فالورز کے ذہن میں کئی اور سوالات پیدا کرنے کے لئے اسی ٹویٹ کے ریپلائی میں ووٹ کرنے والوں کو یہ بھی بتایا کہ ووٹ ذرا سوچ سمجھ کر کیجئے گا، کیوںکہ اس پول کے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے- خیر دو ملین سے زائد لوگوں نے اس پول میں حصہ لیا اور حیران کن طور پر 70 فیصد لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ٹویٹر آزادی اظہار کے اصول پر باکل بھی عمل پیرا نہیں-یہ ٹویٹ انھوں نے شئیرز کی خریداری کے باقاعدہ اعلان سے پہلے یعنی 25 مارچ کو کیا تھا-اس ٹویٹ میں انھوں نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ وہ ٹویٹر کے شئیرز خریدنے جا رہے ہیں، لہذا نتائج کے بعد صارفین نے یہ قیاس آرائیاں ضرور کرنی شروع کر دیں کہ ایلون مسک شاید ٹویٹر کی طرز کا کوئی نیا سماجی رابطے کا پلیٹ فارم بنانے جارہے ہیں یا ٹویٹر ہی کو خریدنا چاہتے ہیں۔اس کے بارے میں انھوں نے ایک اور ٹویٹ کے ریپلائی میں سوالیہ انداز میں اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ شاید وہ ٹویٹر کی طرز کا ایک نیا پلیٹ فارم لے بھی آئیں-

5 اپریل کو ٹویٹر کے سی ای او نے ایلون مسک کی ٹویٹر کے بورڈ آف ڈائرئریکٹرز میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔لیکن ڈائریکٹر بننے کی صورت میں ایلون معاہدے کے تحت کمپنی کے 14.9 فیصد شئیرز سے زیادہ نہیں خرید سکتے تھے-ایلون کے ذہن میں شاید کوئی اور پلان تھا ، شاید وہی وجہ تھی کہ انھوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل نا ہونے کا فیصلہ کیا، جس کے بارے میں ٹویٹر کے سی ای او نے بعد میں اعلان بھی کیا-

14 اپریل کے دن ایک ریگولیٹری فائلنگ میں یہ راز بھی افشا ہو گیا کہ ایلون ٹویٹر کے تمام ملکیتی شئیرز خریدنا چاہتے ہیں-اس سے پہلے انھوں نے ٹویٹر کے چئیرمین کو بھی ایک خط لکھا-خط میں انھوں نے 54.20 ڈالرز فی شئیرز کے حساب سے 43 بلین ڈالرز کے عوض سماجی رابطے کی اس کمپنی کو خریدنے کی آفر بھی کی-انھوں نے مزید لکھا کہ آزادی اظہار ایک فعال جمہوریت کی معاشرتی ضرورت ہے اور ٹویٹر اس وقت اپنی یہ معاشرتی ذمہ داری پوری کرتا دکھائی نہیں دے رہا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ کمپنی کو پبلک سے پرائیویٹ لمیٹد کر دیا جائے-آخر میں انھوں نے لکھا کہ اگر میری آفر کو قبول نہیں کیا جاتا تو میں کمپنی میں شئیر ہولڈر کے طور پر اپنی موجودہ پوزیشن کے بارے میں بھی سوچ بچار کروں گا”-

 یہ بات تو سمجھ آگئ کہ وہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ اس لئے نہیں بنے کہ وہ اگر ایسا کر لیتے تو 14.9 فیصد سے زیادہ شئیرز نہیں خرید سکتے تھے-اب انھوں نے کمپنی کو پرائیویٹ کرنے اور تمام شئیرز خریدنے کی آفر کر کے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ اس کی Decision Making اور تبدیلی پر اثر انداز بھی ہونا چاہتے ہیں اور کنٹرول بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں-کیونکہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کسی تبدیلی کے لئے Approval لینا، پبلک کمپنی سے نسبتا” آسان ہوتا ہے-اس آفر کے بعد اب کمپنی کے پاس بھی ایک بڑے شئیر ہولڈر کی اس آفر کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اور بالاخر ٹویٹر کے تمام ملکیتی شئیرز تقریبا 44 بلین ڈالرز عوض ایلون مسک کو فروخت کر دئے گئے ہیں-

ایلون مسک ٹویٹر کیوں خریدا؟

 14 اپریل کے دن ایک TED Talk میں ایلون نے کئی سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ٹویٹر میں کیا تبدیلیاں چاہتے ہیں-

سب سے پہلی تبدیلی جو انھوں نے بتائی اور جس کا ذکر وہ پہلے بھی ٹویٹر پر کرتے رہتے تھے کہ ان کے خیال میں ٹویٹر اظہار رائے کی آزای کے اصول پر بالکل بھی عمل  پیرا نہیں ہے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ ٹویٹر کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے کہ جہاں ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار آزادی کے ساتھ کر سکے-لیکن دوستو اس میں بھی ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کا اندازاہ کیسے لگایا جائے کہ کونسی بات اظہار رائے کی آزادی میں آتی ہے اور کونسی بات نہیں-مختلف ممالک میں ایک ہی بات کو بات مختلف اندازا میں سمجھا جاتا ہے اور اس کے مختلف قوانین ہیں- کیا ٹویٹر کا الگورتھم اس مسئلے کو حل کرنے کے قابل بھی ہو سکے گا یا نہیں-

اس کے علاوہ ایلون مسک ٹویٹر میں ٹویٹ ایڈیٹ کے آپشن کا اضافہ بھی کرنا چاہتے ہیں-اس حوالے سے بھی انھوں نے ٹویٹر پر ایک پول Create کیا تھا جس میں انھوں نے صارفین سے اس متعلق پوچھا کہ کیا وہ ٹویٹر پر ایڈیٹ بٹن چاہتے ہیں؟-پول میں حصہ لینے والے تقریبا 4.4 ملین صارفین میں سے 74 فیصد کے مطابق ٹویٹ ایڈیٹ کا فیچر ہونا چاہیے-لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ فرض کریں کوئی ٹویٹر صارف ایک ٹویٹ کرتا کہ  “امریکہ زندہ باد”-اس ٹویٹ کو لاکھوں لوگ ری ٹویٹ کر دیتے ہیں-بعد میں اچانک ٹویٹر صارف کا مائنڈ تبدیل ہوتا ہے اور وہ اس ٹویٹ کو ایڈیٹ کرنے کے بعد لکھ دیتا ہے کہ “امریکہ مردہ باد”-تو یہ تبدیلی ان تمام ری ٹویٹس میں بھی آجائے گی اور ظاہر سی بات ہے کہ ان تمام صارفین نے امریکہ زندہ باد کی وجہ سے ری ٹویٹ کئے ہوئے تھے-اس کا کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں بہر حال ایلون مسک نے بتایا کہ ایڈیٹ کا مخصوص ٹائم کے لئے ہو گا جس کے دوران ٹویٹ میں تبدیلی کی جا سکے گی- اور یہ تبدیلی تمام ری ٹویٹس کو بھی صفر کر دے گی-

اگلی تبدیلی جو ایلون چاہتے ہیں وہ ہے permanent ban یعنی مکمل پابندی کا خاتمہ ہے-آپ نے ضرور سن رکھا ہو گا ٹویٹر نے 2021 میں سابق امریکی صدر کے کچھ ٹویٹس کو ٹویٹر قوانین کی خلاف ورزی جانتے ہوئے ان پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی-ایلون کا ماننا ہے کہ کسی بھی ٹویٹر صارف پر مکمل پابندی کسی بھی صورت نہیں عائد کرنی چاہیے بلکہ یہ پابندی عارضی نوعیت کی ہونی چاہیے-

آج کل پاکستان میں باٹ آرمیز کا کافی چرچا ہے جو ٹویٹر پر ایک ریکارڈ بریکنگ ٹرینڈ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں-دوستو “باٹ” ایک ایسا خود کار سافٹ وئیر پروگرام ہوتا ہے جو کسی ٹاسک کو انسانی ہدایات کے بغیر، بار بار پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-اور وہ یہ کام انسان کی نسبت بہت تیزی سے کرتا ہے-باٹ آرمیز اور سکیمز کا خاتمہ بھی ایلون کے مطابق ان کی ترجیحات میں شامل ہے-

اس کے علاوہ ایلون مسک کا خیال یہ بھی ہے کہ ٹویٹر بعض افراد یا موضوعات  کو زیادہ  پروموٹ کرتا ہے اور بعض موضوعات کو غیر منصفانہ طور پر جان بوجھ کر کم پروموٹ کرتا ہے- ایلون مسک اس بات سے بھی شدید نالاں دکھائی دیتے ہیں اور وہ اس میں بھی تبدیلی کے خواہشمند ہیں-

ایلون مسک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹویٹر کے کوڈنگ سٹرکچر میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے، ان کے مطابق ٹویٹر کا کوڈ کو اوپن سورس ہونا چاہیے، تاکہ کوئی بھی اسے analyze کرکے اس میں سے خامیاں تلاش کرنے کے بعد سلوشنز(Solutions) آفر کر سکے-

دوستو مسک کے مطابق کوئی بھی صارف جو ٹویٹر کو مخصوص سروسز کے لئے پے کرے اس کو اضافی فیچرز کے ساتھ Authentication Mark بھی ملنا چاہیے-اس سے فیک اکاؤنٹس کی حوصلہ شکنی ہو گی-ایلون کے مطابق اس کی پیمنٹ کرپٹو کرنسی میں بھی ہونی چاہیے اور مختلف ممالک کی کرنسی اور صارفین کی Affordability کے مطابق ہونی چاہیے-اس کے علاوہ ایلون ٹویٹر کی Content Moderation Practices میں مزید شفافیت بھی لانا چاہتے ہیں-

ایلون مسک کے مطابق وہ ٹوئٹر کی اس خریداری کو ایک بزنس ڈیل کے طور پر بالکل بھی نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ ان کی خواہش یہ ہے کہ ایک ایسا سماجی پلیٹ فارم بنایا جائے جس پر اظہار رائے کی آزادی ہوا –

You may also like

Leave a Comment

رابطہ کریں

error: Content is protected!!
urUrdu