Home Geopolitics کیا امریکہ کی بجائے کوئی اور ملک بھی سپر پاور بن سکتا ہے؟

کیا امریکہ کی بجائے کوئی اور ملک بھی سپر پاور بن سکتا ہے؟

by bigsocho
0 comment

 آج کل دنیا میں چین کے سپر پاوربننے کے خوب چرچے ہیں۔ لیکن چین فی الحال سپرپاور ہونے کا دعوی نہیں کررہا۔۔ چین ایساکیوں نہیں کررہا۔۔ سپرپاورکیسے بنا جاتا ہے۔۔؟ سپرپاور بننے کے بعد کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں؟۔ کیا جرمنی اور برطانیہ بھی سپر پاورہیں؟۔ کیا بھارت سپر پاوربن سکتا ہے؟۔۔ کیا پاکستان کے حصے میں بھی کبھی یہ اعزاز آسکتا ہے؟۔۔۔ امریکا کے علاوہ کوئی دوسری سپرپاورآئی تو پھرکیا ہوگا؟

سپر پاور کسے کہتے ہیں؟

سپرپاور۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہرہے۔ سب سے بڑی طاقت۔ یہ سپرپاورہوتی کیا ہے۔۔ پہلے ذرا اس پر بات کرلیتے ہیں۔  سپرپاور ایسی ریاست کو کہتے ہیں جو عالمی سطح پر اپنا اثرورسوخ رکھتی ہو اور بڑا پروجیکٹ لگانے میں اسے کوئی مشکل نہ ہو۔۔ وہ ایک بڑی فوجی طاقت ہو اور اپنی معیشت، سیاست اور ثقافت کے بل بوتے پردنیا میں اپنا دبدبہ قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔۔۔ انسائیکلوپیڈیا براٹینیکا کے مطابق سپرپاورایسی ریاست ہوگی جس کے پاس بھرپورفوجی یا معاشی طاقت میں سے کوئی ایک صلاحیت ہو یا وہ دونوں صلاحیتوں کی مالک ہو۔۔ وہ ریاست دنیا میں ایسا مقام رکھتی ہو کہ کوئی بڑا عالمی مسئلہ اس کی مشاورت کے بغیر حل ہی نہ کیا جاسکتا ہو۔ یعنی پوری دنیا پر اس کی دھاک ہو۔ یہی نہیں کسی ملک کی جغرافیائی پوزیشن، محل وقوع، میڈیا اور ثقافت بھی اس کے سپرپاور بننے میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔

سپرپاور کی اصطلاح  قدیم تاریخ میں گریکس Greeks، رومنز، جرمنb ، پرشیئنز  Persiansاور برٹشرز  Britishers سمیت مختلف سلظنتوں کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ مسلمانوں نے بھی ظہوراسلام کے بعد اور ماضی قریب میں سلطنتِ عثمانیہ جیسی سپرپاورز قائم کی ہیں۔ جدید تاریخ میں سپرپاورکی اصطلاح کو دوسری عالمی جنگ کے موقع پر 1944 میں امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین کیلئے استعمال کیا گیا۔۔اس جنگ کے بعد سلطنتِ برطانیہ کے حصے بخرے ہوگئے اوردنیا میں امریکہ اور سوویت یونین سپرپاورز رہ گئیں، دونوں ملکوں میں سرد جنگ چلتی رہی اور 1991 میں سوویت یونین کی ریاستیں الگ ہوگئیں تو امریکہ واحد سپرپاور رہ گیا۔

امریکہ بمقابلہ چین

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ ہی اس وقت دنیا کی واحد سپرپاورکیوں ہے؟۔  امریکا کے سیاسی امورکے ماہرمائیکل بیکلے Michael  Beckley کا کہنا ہے کہ امریکہ کے سپرپاورہونے کی ایک بڑی وجہ اس کی مدِ مقابل ریاستوں کی کمزوریاں ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکہ سے سپرپاور کا تاج کبھی چھن نہیں سکتا یا کوئی دوسرا ملک سپرپاور نہیں بن سکتا۔ بیکلے کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ادارہ جاتی نظام بد اورچین کا بدترہے۔امریکہ میں ناقص جمہوریت سہی تاہم چین میں آمریت ہے۔ امریکہ نے ایک عرصے تک دنیا پر اکیلے حکمرانی کی لیکن اب چین اس کو ٹکردے رہا ہے۔۔۔بیکلے کے مطابق امریکہ کو اس وقت اپنی سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت کی وجہ سے برتری حاصل ہے۔ امریکہ کودیکھیں تو وہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ اس کی سرحدیں صرف دوممالک کینیڈا اور میکسیکوسے ملتی ہیں جو قدرے مستحکم معیشت کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس چین کی سرحدیں 14 مختلف ممالک سے ملتی ہیں۔ جن میں سے اکثرمیں سیاسی اورمعاشی بے چینی ہی رہتی ہے۔ سرحدی تنازعات کم ہونے کی وجہ سے امریکا کو سرحدوں پر زیادہ اخراجات نہیں کرنا پڑتے ، اس کے مقابلے میں چین جیسے ممالک کواپنے سرحدی تنازعات کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ اخراجات بھی کرنا پڑتے ہیں، جو اس کی معیشت کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ چین ہانگ کانگ، تائیوان کے اندرونی مسائل کے علاوہ فلپائن، ویت نام اور دیگرممالک سے سرحدی تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔  دوسری جانب چین کے وسائل بھی امریکا جتنے نہیں۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی ٹیکنالوجی کی ماہرورک فورس بھی اس کی بہت بڑی طاقت ہے۔چین میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی ورک فورس کی بنیاد پردنیا کی ہرچیزتیزی سے بنالیتا ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی ورک فورس میں عمررسیدہ افراد کی بھی بڑی تعداد موجود ہے اور innovation کا فقدان ہے۔ نئی ایجادات میں امریکہ کا پلڑا بھاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 35 فیصد ایجادات کا سہرا امریکا کے سرہے۔۔ چین باہر سے امیر لگتا ہے لیکن اس کو اندرونی طورپر کئی معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ اس کی آبادی بھی ہے، چین کوایک ارب اور چالیس کروڑسے زائد افراد کا پیٹ پالنے کیلئے اقدامات کرنا پڑتے ہیں جبکہ امریکا کی آبادی اس کے مقابلے 33 کروڑ ہے ۔۔۔ مارچ 2021 میں چین میں ہونے والے ایک غیرمعمولی اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں اس کے 2035 تک کے اہداف کا جائزہ لیا گیا، جن کے حصول کے بعد ممکن ہے کہ چین سپرپاورہونے کا اعلان کردے۔ کیونکہ چین بھی امریکا، روس، فرانس اور برطانیہ کی طرح اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھتا  ہے۔۔

سپر پاور امریکہ کی خوش قسمتی

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 100 سال میں دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں لڑی ہیں، دونوں عالمی جنگوں کے علاوہ اس نے ویت نام، عراق اور افغانستان کو بھی کئی سال تک میدانِ جنگ بنایا ہے لیکن گزشتہ 150 سال میں امریکا کے اندرکوئی جنگ نہیں لڑی  گئی اور یہی اس کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔۔ امریکا کی لڑائیوں کی وجہ سے کئی ممالک کنگال ہوگئے لیکن اس کی معیشت کو اتنا اثر نہیں پڑا جتنا بڑی جنگ لڑنے والے ممالک کو پڑتا رہا ہے۔ امریکا کو یہ سہولت بھی حاصل رہی ہے کہ اس کی زبان انگلش ہے اوراس کی کرنسی ڈالرہے جودنیا کے اکثرممالک میں تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس لئے امریکی لوگ کہیں بھی آسانی سے کاروبارکرلیتے ہیں جبکہ دوسرے ملکوں کے صنعتکاروں اور تاجروں کو یہ سہولت بھی دستیاب نہیں۔ ڈالر کے تجارتی کرنسی ہونے کی وجہ سے امریکا کی معیشت ابھی تک انتہائی مضبوط ہے۔۔ شاید اسی وجہ سے امریکا کیلئے مشکل فیصلے کرنا بھی آسان ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو ملک میں جاری علیحدگی کی تحریکوں، کیپٹل ازم کی وجہ سے عدم مساوات، تیزی سے بڑھتے ہوئے قرضوں اور نسلی تعصب پسندی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ وجوہات اس کو سپرپاور کے اعزاز سے محروم بھی کرسکتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اب بھی دنیا کی مجموعی دولت کا 25 فیصد کے قریب صرف امریکا کے پاس ہے۔ یہی نہیں دنیا کی دو ہزار بڑی کمپنیوں میں سے 600 سے زائد کمپنیاں صرف امریکا میں ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھرمیں فوج پرکئے جانے والے کل اخراجات کا چالیس فیصد صرف امریکا اپنی فوج پر خرچ کرتا ہے۔۔ اس کی دنیا بھرمیں چھ سو کے قریب فوجی بیسزہیں اور ستر سے زائد ممالک اس کے باقاعدہ اتحادی ہیں۔۔۔

امریکہ بمقابلہ روس

اب امریکا کا موازنہ روس سے کریں توآپ کو پتہ چلے گا کہ روس  کوبھی ناصرف اپنے ملک کے اندرمختلف مسائل کا سامنا ہے بلکہ اس کے کئی ممالک کے ساتھ سرحدوں سے جڑے سنگین تنازعات بھی ہیں۔ جن میں یوکرین سے لڑائی تو سنگین صورتحال اختیارکرچکی ہے۔ روس اپنی مالی مشکلات کی وجہ سے چاہے امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور بڑی عالمی معیشتوں کی لسٹ میں امریکا کا پہلا اور روس کا گیارہواں نمبر ہے لیکن وہ دفاعی لحاظ سے آج بھی امریکا کے بعد دوسری عالمی فوجی طاقت ہے۔ دوسری جانب معیشت امریکی ریاستوں کیلی فورنیا اورٹیکساس سے چھوٹی ہونے اورمناسب شرح سے آبادی نہ بڑھنے کی وجہ سے بھی روس کو مشکلات کا سامنا ہے۔۔ روس فی الحال سپرپاور اس لئے بھی نہیں بن سکتا کہ امریکا تو نیٹو اتحاد کا لیڈر ہے لیکن روس کسی بڑے اتحاد کا حصہ نہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں چین کو ساتھ ملا کر کوئی بڑا اتحاد بنالے ۔

جاپان سپر پاور کا امیدوار

 جاپان بھی اپنی معاشی اورٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت سپر پاور بننے کا مضبوط دعویدار ہے۔ لیکن دفاعی لحاظ سے وہ فی الحال اتنا مضبوط نہیں۔ پانچ کھرب سے زائد کی جی ڈی پی رکھنے والا یہ ملک۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکی ایٹموں حملوں کا نشانہ بنا۔ ملک میں ہرطرف تباہی ہی تباہی تھی لیکن اس نے 70 سال میں ناقابلِ یقین ترقی کی ہے۔ جاپان کی معیشت دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ لیکن چین اور شمالی کوریا کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے جاپان کوکئی مسائل کاسامنا ہے۔ یہاں یہ بھی واضح کردیں جاپان سات ہزار کے قریب جزائر پر مشتمل ملک ہے اوراس کی زمینی سرحدیں کسی بھی ملک سے نہیں ملتیں۔ جاپان کو دنیا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ملک کہا جاتا ہے اور یہاں کے لوگ ٹیکنالوجی میں بھی بہت آگے ہیں۔ لیکن چین کی طرح جاپان کو ناصرف بوڑھے افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ درپیش ہے، بلکہ اس کومطلوبہ تعداد میں نوجوان ورک فورس بھی میسرنہیں۔

جرمنی معاشی سپر پاور

اب ذرا جرمنی کا تذکرہ کرلیں جو سپرپاور بننے کا ایک اور مضبوط امیدوار ہے۔۔ جرمنی کی معیشت کا دنیا میں چوتھا نمبر ہے۔۔ یہ روس کے بعد آبادی کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی سرحدیں نوممالک سے ملتی ہیں۔ جن میں ویٹو پاور رکھنے والا فرانس بھی شامل ہے۔ یہاں امریکا کی طرح کیپٹل ازم کا نظام ہے اورجرمنی کی ورک فورس انتہائی ہنرمند اورمالدار ہے۔ اس کے باوجود اس کے دروازے ہمیشہ ہنرمندوں اور باصلاحیت لوگوں کیلئے کھلے رہتے ہیں، جرمنی کی انڈسٹری نے اس کو سروسز فراہم کرنے والے دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل کردیا ہے۔۔۔بہرحال بہت بڑی معیشت ہونے کے باوجود جرمنی دفاعی لحاظ سے دنیا میں بڑی  قابل ذکرطاقت نہیں سمجھی جاتی۔

سابق سپرپاور برطانیہ

 سابق سپر پاوربرطانیہ بھی دوبارہ سپرپاورکہلوانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ کیونکہ سیاسی، معاشی، سائنسی اور ثقافتی حوالوں سے اس کا اثر و رسوخ آج بھی دنیا بھرمیں مسلمہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک اس کی کالونی تھے، وہ دوسری عالمی جنگ کا فاتح بنا اوراب بھی معاشی اورفوجی طاقت ہے۔۔ امریکہ اورجرمنی کی طرح برطانیہ کو بھی تارکین وطن کی جنت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانیوں اور بھارتیوں کی کمیونٹیزنے تو پورے پورے شہر کو اپنا مسکن بنا رکھا ہے، شاید اسی وجہ سے مانچسٹر کو منی پاکستان کہتے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ امریکہ اوربرطانیہ کو انٹرنیشنل زبان انگلش کی وجہ سے دنیا بھرمیں آسانیاں میسر ہیں لیکن چین، جاپان، روس، جرمنی اوردوسرے ممالک کو اپنی زبان کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

بھارت سپر پاور کب بنے گا؟

کیا پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت کبھی سپرپاوربن سکتا ہے تواس کا جواب ہے کہ ۔ہاں۔ ایسا بالکل ممکن ہے  لیکن اس کیلئے اسے لمبا اورکھٹن سفر طے کرنا پڑے گا۔۔ بھارت کیلئے کسی حد تک اچھی بات یہ ہے کہ ایک تو اس کی آبادی چین کے مقابلے میں زیادہ ہونے والی ہے یعنی وہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ دوسرا یہ کہ یہاں کی ورک فورس زیادہ ترنوجوانوں پرمشتمل ہے۔ جوپوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ گوکہ بھارت تیزی سے ترقی  کرنے والے ملکوں کی ٹاپ فائیو لسٹ میں شامل ہے۔ لیکن اس کی معیشت ابھی اتنی طاقت ورنہیں کہ وہ آنے والے  چند برسوں میں سپرپاوربن سکے۔ جی ڈی پی کے لحاظ سے بھارتی معشیت دنیا میں چھٹے نمبرپرضرور ہے مگریہ ابھی بھی اس کے ہمسایہ ملک چین سے تقریباً 5 گنا چھوٹی ہے۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق بھارت میں 60 فیصد سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔۔ بھارت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس کے سرحدی تنازعات ہیں، اس کے اپنے ہمسایہ ممالک چین، پاکستان اور نیپال سے تعلقات اس سلسلے میں کئی برسوں سے کشیدہ چلے آرہے ہیں، مسئلہ کشمیرتواس کیلئے وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ اُدھر بھارت کی 10 سے زائد ریاستوں میں علیحدگی پسندوں کی بڑی بڑی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جو اس کے سپرپاوربننے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔۔

ترکی بھی بنے گا سپرپاور؟

ترکی بھی سپرپاوربننے کا مضبوط امیدوار ہے۔ جودفاعی اور معاشی لحاظ سے دنیا کی 20 بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ اس کی نوجوان ورک فورس بھی اس کا سرمایہ ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں شکست کے بعد زوال کا شکار ہونے والے ترکی نے رجب طیب اردوان کی قیادت میں گزشتہ دس سال میں معاشی لحاظ سے کافی تیزی سے ترقی کی ہے۔ اور اس کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بھی بہترہوئے ہیں۔ مسلم دنیا میں سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ساتھ اس کا متاثرکن کردار ہے۔ ایشیا کیلئے یورپ کا دروازہ ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک پوزیشن بھی کافی مضبوط ہے۔ اس کے پاس متعدد بندرگاہیں ہیں۔ اوروہ اہم تجارتی راستہ بھی ہے۔

کیا پاکستان سپرپاوربن سکتا ہے؟

اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کا پہلا مسلم ایٹمی ملک پاکستان بھی کبھی بڑی عالمی طاقت بن سکتا ہے تواس کا جواب ہے، جی ایسا ممکن ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں ایسا ہونے کے امکانات روشن نہیں۔ پاکستان کی اسٹرٹیجک پوزیشن، نوجوان ورک فورس، دفاعی صلاحیت اورقدرتی وسائل اس کو اسلامی دنیا کی پہلی سپر پاور بننے میں مدد کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے پاکستان کو پائیدارسیاسی ڈھانچہ درکار ہے جولمبے عرصے تک چلے تاکہ معاشی استحکام آئے۔ پاکستان کواپنے سرحدی تنازعات سے بھی جلد ازجلد جان چھڑانا ہوگی۔۔

 دوسری جانب ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ برازیل، میکسیکو اور افریقی ملک نائجیریا کیلئے بھی 2050 تک سپرپاوربننے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سپر پاور کی ذمہ داریاں؟

 سپرپاوربننے کیلئے بہت ساری اخلاقی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔ سپرپاورکودنیا کوجنگ سے بچانے اورامن قائم کرنے کیلئے ہروقت تیاررہنا ہوتا ہے۔۔ عالمی معیشت کوپُرامن ماحول فراہم کرنا اورغریب ملکوں کی مدد کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے تاہم سپرپاورز نے کبھی بھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔

You may also like

Leave a Comment

error: Content is protected!!
urUrdu