Home Geopolitics اسرائیل کے پاس وافر پانی کیوں ہے؟

اسرائیل کے پاس وافر پانی کیوں ہے؟

by Adnan Shafiq
0 comment

مڈل ایسٹ یعنی مشرقی وسطی کا ریجن اس وقت پانی کی شدید کمی کے مسائل سے دو چار ہے، لیکن اس ریجن میں ایک اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جو اس مسئلے سے بالکل بھی دو چار نہیں، بلکہ واٹر سرپلس ہے، اور دوسرے ممالک کو صاف پانی فروخت بھی کرتا ہے، نا صرف پانی فروخت کرتا ہے بلکہ پانی کی شدید کمی والے اس ریجن میں ایک زرعی ملک ہے۔اسرائیل اب اپنے صحرا کو بڑی حد تک ہرے بھرے کھیتوں میں تبدیل کر چکا ہے، لیکن اسرائیل نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟ اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ڈیڈ سی یعنی بحر مردار کن مسائل سے دو چار ہے۔

دریائے اردن

 دریائے اردن جو اس پورے خطے میں پانی کا سب سے بڑا سورس  ہے-لبنان، شام، اردن اور فلسطین ہزاروں سالوں سے اس کے پانی سے مستفید ہوتے چلے آرہے ہیں۔ Jordan river یا پھر دریائے اردن شمال میں شام اور لبنان کے بارڈر سے نکلتا ہے اور جنوب کی طرف کی طرف بہتے ہوئے لیک آف گلیلی(Lake of Galiliee) میں آ گرتا ہے، جس کو جھیل تبریاس بھی کہا جاتا ہے،دوستو اپنے منبع سے لیک آف تبریاس تک کا دریا، اپر جورڈن river کہلاتا ہے-

لیک آف تبریاس سے لوئر جورڈن دریا شروع ہوتا ہے جو جنوب کی طرف بہتا ہوا  ڈید سی(Dead Sea) یعنی بحر مردار میں گرتا ہے-اور یہی دریا ڈیڈ سی کا مین ان فلو(inflow) بھی ہے۔دوستو یہ بھی یاد رہے کہ ڈید سی کا آؤٹ فلو(Out flow) کوئی نہیں ہے، اور اس کا  پانی باقی سمندروں کے پانی سے دس گنا زیادہ نمکین ہے، اس کے علاوہ یہ اس وقت ہماری دنیا کا lowest point بھی ہے،جو سطح سمندر سے 420 میٹر نیچے ہے-

اسرائیل نے کیا اقدامات کئے؟

 1948 میں جب سٹیٹ آف اسرائیل وجود میں آئی، اس وقت دنیا بھر سے یہودی ہجرت کر کے اس نئی یہودی سٹیٹ میں آ کر آباد ہو رہے تھے،لیکن مشرق وسطی جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا کہ Water Scarce ریجن ہے۔تو اس وقت اسرائیلی حکومت نے ملک کی زرعی اور گھریلو پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک انتہائی بڑے پروجیکٹ، نیشنل واٹر کیرئیر (National Water Carrier) پر کام شروع کر دیا، اسرائیل نے کیا یہ کہ لیک آف تبریاس کے آوٹ فلو(out flow) سے نہروں، پائپ لائنز کا ایک ایسا نیٹ ورک تعمیر کیا جس کے ذریعے اسرائیل نے اپنے شمالی حصے سے لیکر اپنے جنوبی حصے تک پانی پہنچا دیا۔ایک واٹر سکارس ملک میں پانی کی ترسیل کا یہ اتنا بڑا پراجیکٹ 1964 میں اپنی تکمیل کو پہنچا-اس پراجیکٹ کی تعمیر ایک اسرئیلی کمپنی میکوروٹ (mekorot) نے کی تھی-شروع میں اس پراجیکٹ سے حاصل ہونے والے پانی کا 80 فیصد زراعت کے  لئے استعمال ہوتا تھا، جبکہ صرف 20 فیصد پانی گھریلو ضروریات کو پورا کرتا تھا-

1960 کی دہائی میں اسرائیل میں ڈرپ اریگیشن(Drip Irrigation) کا طریقہ کار بھی ایجاد ہوا، جس سے زراعت کیلیے استعمال ہونے والے پانی کی مقدار کو کم کیا جا سکتا ہے اور زرعی پیداوار کو بڑھایا جا سکتا ہے-اس طریقہ کار میں ایک ڈرپ کے ذریعے پودوں کی جڑوں تک براہ راست پانی پہنچایا جاتا ہے-اور یہ طریقہ روایتی اریگیشن کے مقابلے میں 70 سے 80 فیصد تک کم پانی استعمال کرتا ہے، یعنی آپ یوں کہہ لیں کہ ڈرپ اریگییشن زیادہ efficient ہے۔اسرائیل اپنی اس انتہائی efficient ٹیکنالوجی کو انڈیا، امریکہ، اور فرانس جیسے بڑے ممالک کو export بھی کر رہا ہے،  جہاں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

 نیشنل واٹر کیرئیر پراجیکٹ کی تکمیل سے اسرائیل نے اپنی ضروریات تو پوری کر لیں لیکن اس کی وجہ سے ریجن کے دوسرے ممالک کو پانی کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بالخصوص ویسٹ بنک میں آباد فلسطینی شہری شدید مشکلات سے دو چار ہیں، انھیں اس وقت jordan river کے پانی کی بہت کم مقدار دستیاب ہے-

1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے فلسطینی علاقے ویسٹ بنک کا زیادہ تر کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا، اور اس کے بعد یہاں اپنی Settelments بھی بنا لی تھیں، اسرائیل اس کے بعد سے اپنی ان یہودی بستیوں کو پانی بھی اسی نیشنل واٹر کیرئیر سے فراہم کرتا ہے اور وافر مقدار میں فراہم کرتا ہے، اسرائیل  چونکہ  ویسٹ بنک کے اچھے خاصے علاقے پر قابض ہے اور وہ یہاں آباد فلسطینی شہریوں کو ملنے والے پانی کو بھی کنٹرول بھی کرتا ہے، انھیں زیر زمین پانی نکالنے سے بھی  آئے روز روکتا رہتا ہے، ویسٹ بنک میں آباد فلسطینی شہریوں کو 73 litre/person/day  دستیاب ہے، جبکہ ویسٹ بنک میں ہی آباد اسرائیلی شہریوں کو ان کی ضرورت سے بھی زیادہ پانی یعنی 300 litre/person/day دستیاب ہے۔

ڈیڈ سی کو کیا ہوا؟

اسرائیل چونکہ jordan river کے دوتہائی پانی کو  کنٹرول کرتا ہے، اور اس سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتا ہے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پچھلی 6 دہائیوں میں lower jordan river میں پانی کی مقدار انتہائی کم ہو چکی ہے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کی لوئر jordan river سے پہلے 1.3 بلین کیوبک میٹر سالانہ پانی ڈیڈ سی(Dead Sea) میں گرتا تھا جو اب کم ہو کر صرف 2 سو سے 3 سو ملین کیوبک میڑز سالانہ تک رہ گیا ہے-دوستو پانی کی اس کم ہوتی ہوئی مقدار کے باعث ڈیڈ سی میں بھی پانی کا لیول سالانہ 1.4 میٹرز کے حساب سے کم ہو رہا ہے-اور اس کے علاوہ چونکہ ڈیڈ سی کے پانی میں باقی سمندروں کے پانی سے تقریبا دس گنا زیادہ نمکیات ہیں جن کی وجہ سے یہاں evaporation بھی زیادہ ہوتی ہے-

ڈید سی میں کم ہوتی ہوئی پانی کی مقدار کی وجہ سے  ساحلی علاقوں میں سنک ہولز(Sink Holes) یعنی گڑھے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، اور پچھلی چار دہائیوں میں تقرییا 6 ہزار سنک ہولز بن چکے ہیں، ان 6 ہزار میں سے تقریبا ایک ہزار سنک ہولز جودڑن کے ساحل پر ہیں جبکہ باقی کے پانچ ہزار فلسطینی ویسٹ بنک اور اسرائیل کے ساحلی علاقوں پر ہیں۔صرف آخری دس سالوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو تقریبا 15 سو سنک ہولز ظاہر ہوئے ہیں۔جن کی وجہ سے ساحلی علاقوں پر موجود سڑکیں زمین میں دھنس چکی ہیں، کئی عمارتیں گر چکی ہیں، اور بے شمار خطرے میں ہیں۔ ان سنک ہولز میں سے کئی ایک کی گہرائی 10 میٹرز تک بھی ہے، ان اچانک ظاہر ہو جانے والے گڑھوں کی وجہ سے ان ساحلی علاقوں میں شہریوں کے جانے پر بھی پابندی ہے، صرف جیولوجسٹس کو یہاں جانے کی اجازت ہے۔ماہرین اب کیمروں، پانی کی جانچ پڑتال، ڈرون ویڈیو گرافی اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا استعمال کرتے ہوئے یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ سنک ہول کب بنے گا، لیکن ماہرین کو اس بات کا خدشہ بھی ہے کہ جس تییزی سے یہاں سنک ہولز وجود میں آرہے ہیں تھوڑے ہی عرصے میں یہ سارا علاقہ ایک بہت بڑا سنک ہول بن جائے گا۔

 ڈید سی صدیوں سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے لیکن وہ اب یہاں جانے سے گھبراتے ہیں۔ یہاں اس سمندر کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی بتا دیں کہ نمکیات کی ایک حد سے زیادہ مقدار کی وجہ سے ڈیڈ سی کا پانی باقی سمندروں کے پانی سے زیادہ Dense یعنی زیادہ کثافت رکھتا ہے، اس لئے اگر آپ اس کی سطح پر جائیں تو آپ کبھی ڈوبتے نہیں ہیں۔

سنک ہولز کیسے بنتے ہیں؟

 جیسے جیسے ڈیڈ سی میں پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے، ویسے ہی وہ زمین جو کبھی سمندر کے پانی کے نیچے تھی یعنی زیر آب تھی وہ ایکسپوز ہو رہی ہے۔ایکسپوز ہونے والی اس زمین کی اوپر والی مٹی کی تہہ کے نیچے تقریبا 20 میٹرز موٹی معدنی نمکیات کی ایک تہہ بھی کم ہوتا ہوا سمندر پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔اس کے بعد سرما میں جب کبھی یہاں بارشیں ہوتی ہیں تو آس پاس کی چھوٹی پہاڑیوں سے پانی نیچے کی طرف بہہ کر سمندر کی طرف آتا ہے تو یہ ساحلی زمین میں ہی جذب ہو کر غائب ہو جاتا ہے، غائب ہونے  والا یہ پانی جب زمین کی مٹی کی اوپر والی تہہ کے نیچے موجود نمکیات کے ساتھ ملتا ہے تو انھیں اپنے ساتھ حل کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین ایک گڑھا بن جاتا ہے، زیر زمین بننے والے اس گڑھے کی وجہ سے زمین کی اوپر والی باریک تہہ بھی اس گڑھے میں گر جاتی ہے، یوں ایک سنک ہول وجود میں میں آجاتا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ڈیڈ سی میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لئے اس وقت مزید ایک بلین کیوبک میٹرز سالانہ پانی کا ان فلو درکار ہے، جو اب صرف 200 سے 300 ملین کیوبک میٹرز سالانہ رہ گیا ہے، لیکن اس خطے کی موجودہ واٹر سکارسٹی کو دیکھتے ہوئے یہ تو بالکل بھی نظر نہیں آرہا کہ اب دریائے جورڈن میں کبھی اتنا زیادہ پانی دستیاب ہو گا کہ ڈید سی میں پانی کے لیول کو برقرار رکھا جا سکے-ہاں ورلڈ بنک کے تعاون ایک پراجیکٹ Red to Dead کے نام سے  ضرور پروپوز کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ریڈ سی یعنی بحیرہ احمر سے ایک کینال کے ذریعے ڈیڈ سی میں پانی کو گرایا جا سکے گا۔لیکن اس پراجیکٹ کی feasibility اور اس کے ماحولیاتی نتائج کے حوالے سے ماہرین کے concerns کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ دوسری وجہ جو experts بتاتے ہیں وہ یہ کہ ڈیڈ سی کے نیچرل ایکوسسٹم کو برقرار رکھنے کے لئے صرف دریائے اردن کا فریش واٹر ہی موزوں ہے، نا کہ ڈیڈ سی کا پانی جو پہلے ہی نمکین ہے۔

انسان جب بھی فطرت کے نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو اس کے خطرناک نتائج ضرور آتے ہیں، یہی وجہ ہے کی ڈیڈ سی بھی ختم ہوتا جا رہا، اب آنے ۔والا وقت بتائے گا کہ ڈیڈ سی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا یا پر انسان اسے بچانے کے لئے کوئی اقدامات کرے گا

You may also like

Leave a Comment

error: Content is protected!!
urUrdu