Home Interesting Facts ڈالر کیسے دنیا کی طاقتور ترین عالمی کرنسی بنا؟

ڈالر کیسے دنیا کی طاقتور ترین عالمی کرنسی بنا؟

by Adnan Shafiq
0 comment

اس وقت دنیا کے 197 ممالک میں تقریبا 180 مختلف کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں۔ ان میں کچھ ایسی کرنسیز بھی ہیں جو ایک سے زائد ممالک میں استعمال ہوتی ہیں۔ جیسا کہ یورو (euro) یورپی یو  نین کے 26 ممالک میں بنیادی کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکی ڈالر بھی اس وقت تقریبا 14 ممالک کی بنیادی کرنسی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اپنی کرنسی کے علاوہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر بھی رکھتے ہیں جنہیں زرمبادلہ کے ذخائر کہا جاتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر رکھنے کا بنیادی مقصد تجارت یا دیگر مالی لین دین کے لیے بین الاقوامی ادائیگیاں کرنا ہے۔

لیکن  کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام غیر ملکی کرنسی ذخائر میں سے تقریبا 59 فیصد امریکی ڈالرز کی صورت میں موجود ہیں؟ امریکہ اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے اور بلاشبہ امریکی معیشت کو دنیا کی طاقتور ترین معیشت اور امریکی ڈالر کو دنیا کی طاقتور ترین کرنسی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی معیشت کی ترقی کا یہ سفر نہایت دلچسپ ہے۔  کیوں دنیا کی زیادہ تر تجارت ڈالرز میں ہوتی ہے اور کس طرح امریکی ڈالر دنیا کی سب سے طاقتور ترین عالمی کرنسی بنا۔ 

کاغذی کرنسی کا آغاز ۔

 دنیا میں تجارت اور مالی لین دین کے لیے مختلف ادوار میں مختلف نظام رائج رہیں ہیں۔

 انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا کا مالیاتی نظام مختلف اقسام کی کاغذی کرنسی پر باقاعدہ منتقل ہو رہا تھا۔ اس صورتحال میں مختلف ممالک کے درمیان تجارتی اور مالی لین دین کے لیے کوئی مشترکہ نظام بنانے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ کیونکہ ہر ملک کی اپنی ایک کرنسی تھی اور کرنسی کی چھپائی اور ترسیل کا کوئی واضح اصول موجود نہیں تھا اس لیے ہر ملک اپنی ضرورت کے مطابق کرنسی چھاپتا اور استعمال کرتا تھا۔ نتیجتاً مختلف ممالک کے درمیان تجارت کی غرض سے کرنسی کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے زیادہ تر ممالک اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہر کرنسی کی قدر سونے کی مخصوص مقدار پر رکھ دی جائے اور کسی بھی کرنسی کو مذید چھاپنے کے لیے حکومت کے پاس اسی حساب سے سونا موجود ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر 1873 میں ایک ڈالر کی قدر 1.504 گرام سونا مقرر کی گئی تھی، تو اس حساب سے 1000 ڈالر پرنٹ کرنے کے لیے امریکی  حکومت کے پاس 1504 گرام سونا موجود ہونا چاہیے۔یعنی سادہ الفاظ میں یہ کہ جس ملک کے پاس جتنا سونا ہو گا اسی کی مالیت کے برابر ہئ وہ کرنسی جاری کر سکے گی اس سے زیادہ نہیں۔  

لیکن پہلی جنگ عظیم کے آغاز کے بعد یہ نظام بھی زیادہ دیر نا چل سکا۔ 

عالمی جنگوں کے معیشت پر اثرات:

پہلی جنگ عظیم میں شامل ممالک کو جنگی اخراجات کے لیے بے شمار پیسہ درکار تھا اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہت سے ممالک نے ایک بار پھر اپنی مرضی سے کرنسی نوٹ پرنٹ کرنا شروع کر دیئے۔ نتیجتاً بعض ممالک میں افراطِ زر یعنی inflation بہت زیادہ بڑھ گئی اور ان کی کرنسی کی قدر بہت کم ہو گئی۔ برطانیہ اس دور کی سپر پاور تھی اور اس کی کالونیز پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اگرچہ اپنی کرنسی کی ولیو برقرار رکھنے اور دنیا میں اپنی پوزیشن کو قائم رکھنے کے لیے اپنی کرنسی کو سونے کے ساتھ منسلک رکھنے کی کوشش تو کی لیکن بالآخر 1931 میں انہوں نے بھی کرنسی کے پیچھے سونے کے معیار کو ترک کر دیا۔ اس وجہ سے پاونڈ کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی اور بین الاقوامی تاجر جو اس وقت پاونڈذ میں تجارت کرتے تھی ان کے بینک اکاؤنٹس عملی طور پر ختم ہو گئے۔ مذید یہ کہ جنگ اخراجات پورے کرنے کے لیے برطانیہ جیسی سپر پاور کو بھی قرض لینا پڑا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1920 میں ان کا قومی خسارہ 7.8 ارب پاؤنڈز تک پہنچ گیا تھا جو جنگ سے پہلے  1913 میں صرف 600 ملین پاؤنڈز تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خسارہ بڑھتے بڑھتے تقریباً 21 ارب پاؤنڈز تک پہنچ گیا جو اس وقت ان کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی  GDP کا تقریباً تین گنا (یا 270 فیصد) بنتا تھا۔ اسی طرح باقی ممالک جیسا کہ روس، فرانس اور جرمنی بھی شدید مالی خسارے کا شکار ہوئے۔

عالمی جنگیں اور امریکہ کی معاشی پالیسی۔

  ان دونوں جنگوں میں امریکہ کی معاشی اور سفارتی پالیسی نہایت شاندار رہی۔ امریکہ نے ان دونوں جنگوں میں پہلے جنگی تاجر کے طور پر اور بعد میں جنگی فریق بن کر حصہ لیا۔ یعنی جب پوری دنیا ان جنگوں میں مصروف تھی تو امریکہ اپنے تمام تر سرمائے اور افرادی قوت کے ذریعے کپاس، گندم، ربڑ، مشینری، قیمتی دھاتوں اور اسلحے کی پیداوار میں مصروف تھا۔ نتیجتاً امریکہ نے ایک مختصر عرصے میں دنیا کا عظیم ترین اقتصادی عروج  دیکھا اور دنیا کا ایک بڑا ایکسپورٹر یعنی برآمد کنندہ بن کر ابھرا۔ 1913 سے 1917 کے دوران امریکہ کی کل برآمدات یعنی ایکسپورٹس 2.4 بلین ڈالر سے بڑھ کر 6.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جبکہ اس وقت برطانیہ کی برآمدات تقریباً 2.5 ارب ڈالر تھیں۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں بھی امریکہ باقاعدہ جنگی فریق نہیں تھا اور انہوں نے اپنے تمام تر وسائل اپنی برآمدات یعنی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے استعمال کیے۔ 1945 تک امریکہ کی برآمدات تقریباً 10 ارب ڈالرز سے زائد ہو چکی تھیں جس میں سے زیادہ تر برآمدات برطانیہ اور روس کو کی گئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں برطانیہ کی برآمدات صرف 3 ارب ڈالر کے قریب تھیں۔ دوستوں دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے یہ شرط عائد تھی کہ وہ تمام اشیاء صرف اپنی کرنسی یعنی ڈالر، یا پھر سونے کے عوض ہی فروخت کرے گا۔ اس وقت باقی تمام ممالک کے لیے ڈالر میں تجارت کرنا تو ممکن نہیں تھا لہذا امریکہ نے زیادہ تر تجارت سونے کے عوض ہی کی۔ یعنی امریکہ نے ان دو عظیم جنگوں سے اپنے لیے کاروبار کے ایسے مواقع پیدا کیے کہ جب دنیا کی سپر پاورز کی اکانومیز جنگ کی نظر ہو رہی تھیں تب امریکہ نے پوری دنیا کا تقریباً 75 فیصد سونا تجارت کے ذریعے اپنے پاس زخیرہ کر لیا تھا۔ امریکہ کے سونے کے ذخائر 1910 میں 2 ہزار ٹن سے بڑھ کر 1945 میں بیس ہزار ٹن تک پہنچ گئے تھے۔

 lend-lease ایکٹ۔

جنگوں کے دوران امریکہ کی اس معاشی ترقی کے سبب امریکہ بہت سے ممالک کو قرض دینے کا واحدآپشن بھی بن گیا تھا۔ 

دوسری جنگ عظیم کے دوران، امریکہ نے ستمبر 1940 میں اتحادیوں کو اہم فوجی سامان اور دیگر امداد کو lend-lease ایکٹ یعنی لیز پر قرضہ دینے کے تحت فراہم کرنا شروع کیا۔

لینڈ لیز ایکٹ کے تحت امریکی حکومت کسی بھی ملک کو جنگی سامان بیچنے کے بجائے قرض، لیز یا امداد کے طور پر دے سکتی تھی۔ اس قرض یا امداد کا مقصد اُن ممالک کی دفاعی مدد کرنا تھا جن کی سلامتی امریکہ کی سلامتی کے لیے اہم سمجھی جاتی تھی۔ 

اس وقت تک امریکہ خود جنگ میں باقاعدہ طور پر فریق نہیں بنا تھا اور تنازعات میں سرکاری طور پر غیر جانبدار تھا لہٰذا اس امداد کا زیادہ تر حصہ برطانیہ اور ان دیگر ممالک کو پہنچا جو پہلے سے ہی جرمنی اور جاپان کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھے اور مزید اسلحہ خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ لینڈ لیز ایکٹ کی منظوری نے ہی برطانیہ جیسی سپر پاور کو اس قابل بنایا کہ وہ جرمنی کے خلاف عملی طور پر جنگ جاری رکھ سکے۔ پرل ہاربر کے واقعے کے بعد امریکہ جنگ میں باقاعدہ ایک تو فریق بن گیا تھا لیکن اس lend-lease ایکٹ کے تحت امداد کا سلسلہ جاری رہا اور جنگ کے اختتام تک امریکہ تقریباً 50 ارب ڈالر کی امداد 30 سے زائد ممالک کو کر چکا تھا۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے امریکی ڈالر ایک مضبوط اور عالمی کرنسی بن کر ابھرنا شروع ہوا اور اس وقت کی بڑی بڑی سپر پاورز بھی امریکہ کی مقروض ہو گئیں۔ 

یہ وہ موقع تھا جب 1944 میں امریکہ نے 44 ممالک کے نمائندگان کو اکٹھا کر کے ایک ایسا ایگریمنٹ سائن کیا جو امریکی ڈالر کو ایک عالمی کرنسی بنانے کی بنیاد بنا۔

1۔ بریٹن ووڈز (Bretton Woods) معاہدہ (پہلا مرحلہ) ۔

44 اتحادی ممالک کے مندوبین نے 1944 میں بریٹن ووڈ، نیو ہیمپشائر (bretton woods new hampshire) میں ملاقات کی تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے انتظام کے لیے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے کسی بھی ملک کو نقصان نہ پہنچے۔ وفد نے فیصلہ کیا کہ دنیا کی کرنسیوں کو اب سونے سے نہیں جوڑا جائے گا بلکہ امریکی ڈالر سے منسلک کیا جائے گا، اور امریکی ڈالر کو بالآخر سونے سے منسلک کیا گیا۔ ایک ounce یعنی 28.35 گرام سونے کی قیمت 35 ڈالر مقرر کی گئی۔ اس انتظام کو بریٹن ووڈس معاہدے کے نام سے جانا گیا۔ 

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان 44 ممالک کو اس معاہدے سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا؟ 

 کیونکہ اس وقت، امریکہ کے پاس سونے کے سب سے بڑے ذخائر تھے اور دنیا کے زیادہ تر ممالک جنگ کے باعث اپنے سونے کے ذخائر خرچ کر چکے تھے

لہذا اس معاہدے سے ایسے تمام ممالک کی کرنسی ڈالر کے ذریعے بالآخر ایک بار پھر سونے سے منسلک ہوگئی۔

 اس نظام کے تحت، مرکزی بینکوں کی اتھارٹی قائم کی گئی، جو اپنی کرنسیوں اور ڈالر کے درمیان مقررہ شرح مبادلہ کو برقرار رکھی گی، جبکہ امریکہ، ڈالر کے بدلے کسی ملک کو مقررہ قیمت کے مطابق سونا واپس کرنے کا پابند ہو گا۔ 

اس معاہدے کی وجہ سے دو ممالک آپس میں بآسانی تجارت کرسکتے تھے جبکہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد بھی نہ کرتے ہوں۔  مثال کے طور پر اگر برطانیہ، فرانس کو ایک ملین ڈالر کی برآمدات یعنی ایکسپورٹ کرتا ہے تو اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ فرانس سے ملنے والے ایک ملین ڈالر کے عوض امریکہ سے ایک مخصوص مقدار میں سونا خرید سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ یہ پیسہ فرانسیسی کرنسی فرینک (francs) میں وصول کرے، تو اگر آج 1 ملین francs کے عوض 1 کلوگرام سونا مل سکتا ہو تو ممکن ہے کہ ایک مہینے بعد فرانس مذید کرنسی چھاپ دے جس سے francs کی قدر گر جائے اور 1 ملین francs کے عوض شاید 700 گرام سونا ہی خریدا جا سکے۔ اس طرح اس تجارت کی تمام ویلیو (value) عملی طور پر ختم ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ اگر برطانیہ ان francs کو کسی اور ملک کے ساتھ تجارت کے لئے استعمال کرنا چایتا ہو، اور وہ ملک خود francs پر اعتماد نہ کرتا ہو تو برطانیہ کے لیے وہ پیسے کسی کام کے نہیں رہیں گے۔ لیکن اگر یہ تمام تجارت امریکی ڈالرز میں ہو تو امریکہ اس چیز کا ضامن ہے کہ ڈالر کے بدلے ایک مخصوص مقدار میں سونا کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔ اور اس طرح کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ کسی بھی چیز کی تجارت ڈالرز میں کرسکتا ہے۔ 

ورلڈ بینک اور IMF کا قیام.

ایک اہم بات یہ ہے کہ بریٹن ووڈز معاہدہ کے نتیجے میں دو اہم مالیاتی اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک ورلڈ بینک اور دوسرا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی IMF۔ کیونکہ دو عظیم جنگوں کے بعد زیادہ تر ممالک معاشی تباہ حالی کا شکار تھے تو ایسے میں ان تمام ممالک کو اپنے انفراسٹرکچر اور معیشت کی بحالی کے لیے قرضوں کی ضرورت تھی۔  لہذا امریکہ کی فنڈنگ سے ورلڈ بینک نے ان ممالک کو اپنی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر قرضے دیے۔ اس کے علاوہ IMF مجموعی طور دنیا کی اکانومی پر نظر رکھتا تھا اور چھوٹے ممالک کو ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کو کم کرنے کے لیے قرض بھی فراہم کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک آج بھی اپنی معیشت کی بحالی کے لیے IMF کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ 

اس طرح بریٹن ووڈز معاہدے نے امریکا کو دنیا کے دیگر ممالک پر ایک ممتازی حیثیت دے دی اور یہ وہ پہلا مرحلہ تھا جہاں امریکی ڈالر کو باقی تمام کرنسیوں کے مقابلے پر فوقیت ملی اور وہ ایک عالمی کرنسی کے طور پر سامنے آیا۔ 

آئیے اب ہم اس دوسرے مرحلے یا دوسری وجہ پر بات کرتے ہیں جو ڈالر کو ایک عالمی کرنسی بنانے میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ 

پیٹرول کی ڈالر میں تجارت (دوسرا مرحلہ

ایک مرتبہ پھر دوسری جنگ عظیم کی طرف چلتے ہیں جہاں ایک طرف برطانیہ، فرانس، روس، امریکہ، جرمنی، اٹلی اور جاپان حالت جنگ میں ہیں اور دوسری طرف عرب ممالک ان جنگی تباہکاریوں سے غافل، دور صحرا میں آرام کر رہے ہیں۔ انہیں شاید یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ دنیا کے ایک بڑے تیل کے ذخیرے پر بیٹھے ہیں۔ اس زمانے میں صرف امریکہ اور برطانیہ ہی ایسے ممالک تھے جن کے پاس زمین سے تیل نکالنے، ان کو استعمال کے قابل بنانے اور اس کی تجارت کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اسی دوران 1938 میں امریکہ کی ایک کمپنی نے سعودی عرب میں ایک بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت کیا اور اس میں سے تیل نکالنے کا کام شروع کیا۔ اس وقت سعودی عرب معاشی طور پر اتنا خوشحال نہیں تھا کیونکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے سے ہی ان کی ذمین سے تیل نکلنے کا کام شروع ہوا تھا۔ لیکن جنگ کے دوران اٹلی نے سعودی عرب کی سرزمین پر امریکہ کی تنصیبات پر کئی مرتبہ گولہ باری کی۔ چونکہ سعودی عرب اس وقت اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ تیل نکالنا چاہتا تھا اس لیے انہیں اپنی اور ان تنصیبات کی حفاظت کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کے اس وقت کے صدر فرینکلن روزویلٹ نے یہ realize کیا کہ اِس وقت اور مستقبل میں، ترقی کے لیے سب سے اہم چیز تیل ہے۔ لہذا انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ایک طویل ملاقات کے بعد 1945 میں تاریخ کی ایک ایسی ڈیل کی جس نے مستقل میں ڈالر کی تقدیر بدل دی۔ اس ڈیل کے مطابق امریکہ مستقبل میں سعودی عرب کی کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے مدد کرے گا۔ اس مقصد کے لیے وہ سعودی عرب کو ہر قسم کا جدید ترین اسلحہ فراہم کرے گے، اور اس کے بدلے سعودی عرب اپنی سر زمین سے نکلنے والے تیل کو صرف ڈالر کے عوض ہی فروخت کرے گا۔ یوں تیل کی فروخت ڈالر میں کی جانے لگی اور یہیں سے مشرقِ وسطیٰ یعنی middle east ممالک کے عروج کا آغاز ہوا۔  1960 میں Organization of the Petroleum Exporting Countries یعنی opec کے قیام کے بعد باقاعدہ طور دنیا میں تیل کی تمام تجارت ڈالرز میں ہونے لگی۔

 یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈالر کے عوض تیل کی تجارت سے کیسے ڈالر دنیا کی مضبوط ترین کرنسی بن گیا؟ اس کی وجہ جاننے کے لیے ہم اس تیسرے مرحلے کی بات کرتے ہیں جس نے بالآخر ڈالر کو ایک عالمی کرنسی بنا دیا۔ 

سونے کے ساتھ ڈالر کی تبدیلی منسوخ (تیسرا مرحلہ) ۔

 بریٹن ووڈز معاہدے کی رو سے کوئی بھی ملک ڈالر کے عوض امریکہ سے مقررہ مقدار میں سونا وصول کر سکتا تھا، نتیجتاً 1970 میں امریکہ کے سونے کے ذخائر کم ہوتے ہوتے صرف دس ہزار ٹن رہ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کے لیے ڈالر کے عوض سونا واپس کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس موقع پر امریکہ کے اس وقت کے صدر ریچرڈ نیکسن نے عارضی طور پر ڈالر کے عوض سونے کی تبدیلی کو منسوخ کر دیا اور یوں بریٹن ووڈز معاہدہ عملی طور پر ختم ہو گیا۔ 

اب دنیا کا ہر ملک اپنی کرنسی کا ایکسچینج ریٹ متعین کرنے میں آزاد تو تھا لیکن کوئی بھی کرنسی سونے کے ساتھ منسلک نہیں رہی تھی۔ لہذا اب کسی بھی کرنسی کی قدر جانچنے کا پیمانہ اس سے منسلک سونا نہیں تھا، بلکہ اس کرنسی کا عالمی مارکیٹ میں استعمال ہی اس کی قدر متعین کرتا تھا۔ یعنی یہ بات اہم ہو گئی تھی کہ آپ کی کرنسی کہاں استعمال ہو سکتی ہے اور اس سے کیا خریدا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں امریکی ڈالر وہ کرنسی تھی جس سے آپ اس صدی کی سب سے اہم چیز خرید سکتے تھے، یعنی تیل۔ اس لیے زیادہ تر ممالک نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر ڈالرز میں رکھنا شروع کر دیے تا کہ عرب دنیا سے تیل خریدا جا سکے۔

 .US treasury bonds

 یہاں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بہت سے ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت زیادہ ہوتے جبکہ تجارت کے لئے وہ اس میں سے صرف ایک مخصوص رقم استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ملک کے ذخائر 100 ارب ڈالرز کے ہوں اور وہ اس میں سے صرف 20 ارب ڈالرز کی تجارت کرتا ہو تو اس کے پاس 80 ادب ڈالر کے اضافی ذخائر موجود ہوں گے۔ جیسا کہ ہم اپنے بچائے ہوئے پیسے کو جمع کرنے کے بجائے انہیں سٹاکس، سیونگ سرٹیفیکیٹس یا بانڈذ میں انوسٹ کرنا پسند کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہ ممالک اپنے اضافی زرمبادلہ کے ذخائر کی US treasury bonds میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ treasury bonds امریکی حکومت کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں اور مختلف ممالک اس میں اس غرض سے سرمایہ کاری کرتے ہیں کہ ان کو مستقبل میں اس کا معقول منافع ملے۔ فیڈرل ریزرو اور یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ٹریژری کے مطابق، مئی 2022 تک بیرونی ممالک نے امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں تقریباً ساڑھے سات ٹرلین امریکی ڈالر رکھے تھے۔ یہ اتنی بڑی رقم فرانس ، انڈیا اور روس کے مشترکہ GDP سے بھی زیادہ ہے۔ اس بے شمار پیسے کی بدولت امریکہ کے پاس معاشی ترقی، دفاعی اخراجات، صنعتی پیداوار یہاں تک کہ بڑے مالیاتی اداروں جیسا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو فنڈ دینے کا ایک اضافی فایدہ موجود ہے۔ اور ان بے شمار معاشی وسائل کے ساتھ امریکہ کو دوسرے ملکوں پر ایک غیر منصفانہ کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں اگر کوئی ملک ان کی مرضی کے خلاف چلنے کی کوشش کرے تو امریکہ میں موجود ان کے ڈالر ذخائر منجمد بھی کیے جاسکتے ہیں، اس کی مثال حال ہی میں روس پر لگائی گئی پابندیاں ہیں۔ 

 ان تمام وجوہات کی بنیاد پر امریکہ کی حیثیت ایک سپر پاور کی ہے اور امریکی ڈالر ایک مضبوط عالمی کرنسی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ 

ویسے تو اب دنیا کے چ ند ممالک آپس میں تجارت کے لئے اپنی لوکل کرنسی کا استعمال کرنا شروع ہو گئے ہیں، لیکن عالمی تجارت میں ڈالر کی ضرورت اور دنیا کے معاشی نظام میں اس کی اہمیت آج بھی سب سے زیادہ ہے۔ 

You may also like

Leave a Comment

رابطہ کریں

error: Content is protected!!
urUrdu