Home History سوڈان دو ملکوں میں تقسیم کیوں ہوا؟

سوڈان دو ملکوں میں تقسیم کیوں ہوا؟

by Adnan Shafiq
0 comment

سوڈان  کبھی افریقہ کا سب سے بڑا ملک تھا،  اس کا رقبہ تقریبا”ساڑھے 25 لاکھ مربع کلو میٹر مشتمل تھا۔لیکن 2011 میں یہ ٹوٹ کر دو ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، شمالی حصے کا نام ریپبلک آف سوڈان ہے جبکہ جنوبی حصے کو ریپبلک آف ساوتھ سوڈان سے جانا جاتا ہے۔ ساوتھ یا جنوبی سوڈان اکیسویں صدی میں آزاد ہونے والا ابھی تک کا آخری اور سب سے بڑا ملک ہے۔ایک دہائی پہلے اس اسلامی ملک سوڈان کے ٹوٹںے کی وجہ کیا بنی؟ کیا اس تقسیم میں تیل اور مذہب کا بھی کوئی رول تھا، برطانیہ کا اس تقسیم میں کیا کردار رہا ہے؟ اور کیا اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کو تنازعہ باقی ہے؟ یہی سب ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

تنازعے کی تاریخ

سوڈان کے تقسیم ہونے کی تاریخ نو آبادیاتی نظام سے ملتی ہے، جب انیسویں صدی کے اوائل میں سوڈان مصر کے کنڑول میں تھا۔صدی کے  آخری سالوں میں مصر کے ایک برطانوی کالونی بن جانے کے  بعد 1899 میں سوڈان کو ایک کنڈومینیم (Condominium) یعنی ایک ایسی ریاست کا دجہ دیا گیا، جس پر برطانیہ اور مصر مل کر حکومت کرتے تھے۔

اس دور میں سوڈان کے شمال میں عرب مسلمان اکثریت میں تھے جبکہ جنوبی سوڈان میں اکثریت غیر مسلم افریقی قبائل کی تھی۔کنڈومینیم کا درجہ دئیے جانے کے بعد شمالی سوڈان نے برطانوی راج کو جلد ہی تسلیم بھی کر لیا جبکہ جنوب میں برطانیہ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اور یہاں برطانیہ کی زیادہ تر توانائی اس مزاحمت کے کچلنے میں ہی صرف ہوئی۔

ایک ہی ملک کے دو مختلف حصوں میں الگ طرح کے رسپانسز کی وجہ سے نوآبادیاتی طاقت نے یہاں حکومت بھی مختلف انداز میں کی۔ شمال میں چونکہ مزاحمت کم تھی لہذا برطانیہ یہاں ماڈنائزیشن میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا، اور انفراسٹرکچر وغیر کی تعمیر بھی اچھی خاصی ہوئی۔ جنوب میں برطانیہ نے کسی قسم کا انفراسٹرکچر وغیرہ تعمیر نہیں کیا، بلکہ بمشکل حالات کو ہی کنٹرول کیے جا رہے تھے، انفراسٹرکچر وغیرہ کے تعمیر نا ہونے کی وجہ شاید یہاں ہونے والی مزاحمت تھی۔

اس پر مزید یہ ہوا کہ 1922 میں برطانیہ نے شمالی سوڈان کے باشندوں کی 10 پیرالل سے جنوب کی طرف نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ ایسے ہی جنوبی سوڈان باشندوں کی  پیرالل سے شمال کی طرف نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ اس طرح کی پابندیوں کے بعد شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں، بعض مورخین کے مطابق ان Restrictions  ایک مقصد اسلامی نظریات کو مزید جنوب کی طرف پھیلنے سے روکنا تھا۔اس کے ساتھ ہی جنوبی سوڈان میں کرسچن مشنریز (Christian Missionaries) مقامی افریقی قبائل کا مذہب تبدیل کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔ یوں شمالی اور جنوبی سوڈان میں تقسیم کے لئے ایک واضح لائن کھینچی جارہی تھی جومستقبل میں مزید گہری ہوتی چلی گئی۔

سوڈان کی آزادی اور پہلی سول وار

سوڈان میں برطانوی حکومت کی تقسیم کی پالیسی آنے والی دہائیوں میں بھی جاری رہی۔ اس وقت دنیا نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ بھی ہوتا جارہا تھا اور برطانیہ نے 1956 میں سوڈان کو بھی آزادی دینے کا فیصلہ کر لیا۔ سوڈان ایک عبوری آئین کے تحت آزاد ہوا تھا اور اب ملک کا ایک مستقل آئین  تیار کیا جانا تھا۔ لیکن اس میں دو مسائل تھے۔

پہلا مسئلہ یہ تھا کہ کیا سوڈان ایک ایسا ملک ہو گا جس میں مرکزی حکومت زیادہ با اختیار ہو یا پھر صوبائی حکومتیں؟

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ کیا یہ سوڈان ایک سیکولر ریاست ہو گی یا اسلامک؟

تو دوستو یہاں جنوبی سوڈان کے سیاستدانوں کا خیال تھا کہ صوبوں کے پاس اختیارات زیادہ ہونا یہاں کے باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک بہتر آپشن ہے، کیونکہ دوسری صورت میں جنوبی سوڈان کو شمالی اکثریتی مرکزی حکومت کے ماتحت ہونا پڑتا۔

شمالی سوڈان کے سیاستدانوں ایسے کسی نظام کو اپنانے سے کترا رہے تھے جس میں صوبوں کو کسی حد تک خودمختاری ملتی۔ اس صورت میں ہونا یہ تھا کہ جنوبی سوڈان میں علیحدگی پسند نظریات کو تقویت مل جاتی، جو شمالی سوڈان ہر گز نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے شمالی سوڈان کے سیاستدان ہر صورت معاملات کو شمال  اور مرکز کے کنٹرول میں ہی رکھنا چاہتے تھے۔

یہی مسئلہ مزہب کے حوالے سے بھی تھا، شمالی سوڈان کے سیاستدانوں کا خیال تھا کہ سوڈان ایک اسلامی ریاست ہونی چاہیے جبکہ اس پر جنوبی سوڈان میں شدید تحفظات پائے جا رہے تھے۔ کیونکہ اس صورت میں انھیں خدشہ تھا کہ وہ شمالی سوڈان کے عرب مسلمانوں کے ماتحت ہو جائیں گے اور یہ بات ان کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں تھی، لہذا وہ ایک سیکولر ریاست کے حامی تھے۔ یہ یاد رہے کہ اس وقت جنوبی سوڈان میں 80 فیصد کے لگ بھگ کرسچنز یا دوسرے افریقی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، جبکہ مسلمان یہاں صرف 18 فیصد تھے۔

حکومتی سٹرکچر اور آئین کے حوالے سے اختلافات تو وہ اعتراضات تھے جو آزادی کے بعد سامنے آئے۔ لیکن، برطانیہ جب یہاں سے جانے کی تیاریوں میں تھا تو خالی ہونے والی آٹھ سو سول سروس پوسٹس میں سے جنوبی سوڈان کے حصے میں آئیں۔ اس وقت سیاسی  غیر یقنیی کی صورتحال میں جب جنوبی سوڈان کے باغیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے شمالی سوڈان کی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا تو سوڈان میں سول وار کا آغاز بھی ہو گیا۔ ساوتھ سوڈان کے باغیوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ انھیں حکومت میں زیادہ سے زیادہ نمائیندگی اور خودمختاری دی جائے۔ اس سول وار کا خاتمہ سوڈان کی حکومت اور جنوبی سوڈان کے باغیوں کے درمیان 1972 میں ادیس ابابہ (Addis Ababa) معاہدے کے تحت ہوا۔اس ایگریمنٹ کے مطابق جنوبی سوڈان کے مطالبات کو مانتے ہوئے اب جزوی خود مختاری بھی دے دی گئی، اور اس معاہدے کی شرائط کو سوڈان کے  پہلے مستقل آئین میں بھی شامل کیا گیا۔

دوسری سول وار اور جنوبی سوڈان کی آزادی

دوستو شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان پہلی سول وار کے بعد اگلے گیارہ سالوں تک کسی حد تک امن رہا، لیکن یہ زیادہ دیر پا ثابت نہ ہوا۔ 1983 میں اس وقت کے سوڈانی صدر جعفر نمیری (Jafar Namiri) نے ملک کو ایک اسلامی عرب ریاست بنانے کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے پورے سوڈان میں Sharia Law کا نفاذ کر دیا، اور جنوبی سوڈان کی خودمختاری کو بھی ختم کر دیا۔اس  کے فورا” بعد جنوبی سوڈان کے علیحدگی پسندوں اور شمالی سوڈان کی فورسز کے درمیان دوسری سول وار کا آغاز ہو گیا۔

 نمیری کے ان اقدامات کا سوڈان کو اسلامی ریاست بنانے کے علاوہ ایک دوسرا مقصد بھی تھا۔ سوڈان چونکہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک تھا لیکن اس کا 75 فیصد جنوبی سوڈان میں تھا، لہذا وہ ملک کے اس جنوبی حصے کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ نمیری کے بعد آنے والے صدور نے بھی جنوبی سوڈان کے حوالے سے نمیری کی پالیسیز کو جاری رکھا اور یہ سول وار دو دہائیوں تک جاری رہی۔ اس جنگ میں تقریبا” 2 ملین کے قریب افراد جان سے گئے جبکہ 4 ملین شہریوں کو ہجرت کرنا پڑی۔

افریقہ کی سب سے لمبے عرصے تک چلنے والی اس سول وار کا خاتمہ کینیا 2005 میں Comprehensive Peace Agreement کے تحت ہوا، معاہدے کے مطابق سوڈان نے اب جنوبی سوڈان کو خود مختاری دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہ بھی طے پایا کہ جنوبی سوڈان کے شہریوں کو 6 سال بعد 2011 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اس بات کا اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایک سوڈان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ایک علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق اگلے چھ سالوں میں دفاع اور خارجہ امور کے علاوہ باقی تمام معاملات میں جنوبی سوڈان کو خود مختار بھی دے دی گئ۔

جنوبی سوڈان اور شمالی سوڈان کے درمیان تنازعے کی ایک وجہ تیل کے ذخائر سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کی تقسیم بھی تھا، لہذا فریقین کے درمیان یہ بھی طے پایا کہ کل زرمبادلہ کا 2 فیصد شئیر تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو ملے گا جبکہ باقی 98 فیصد جنوبی اور شمالی سوڈان میں برابر تقسیم ہو گا۔ Revenue شئیرنگ  کا یہ فارمولا 2011 میں ریفرنڈم کے ساتھ ہی ایکسپائر ہو جانا تھا۔

 معاہدے کے مطابق جنوری 2011 میں ریفرنڈم کا انعقاد ہوا اور جنوبی سوڈان کے 99 فیصد شہریوں نے سوڈان سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا۔ ریفرنڈم میں یونائییڈ نینشر کے Volunteers نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ ریفرنڈم کے 6 ماہ بعد 9 جولائی 2011 کو جنوبی سوڈان دنیا کے نقشے پر ایک الگ ملک کے طور پر وجود میں آگیا اور سوڈان کے دو حصے ہو گئے۔جنوبی سوڈان کا رقبہ 6 لاکھ 44 ہزار مربع کلو میٹر ہے، تقسیم کے وقت اس کی آبادی 1 کروڑ 10 لاکھ افراد پر مشتمل تھی، جس میں 60 فیصد کرسچنز، 33 فیصد لوگ Animist Beliefs رکھتے تھے، جبکہ 7 فیصد مسلمان بھی تھے۔اس کے مقابلے میں سوڈان کا رقبہ 18 لاکھ اکسٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے جبکہ آبادی ساڑھے چار کروڑ کے لگ بھی تھی، جس میں سے 80 فیصد مسلمان اور باقی 20 فیصد دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے تھے۔

غیر حل شدہ مسائل؟

دوستو دونوں ممالک کی علیحدگی کے باوجود اب بھی کئ ایسے مسائل جو حل طلب ہیں، ان میں سب سے بڑا مسئلہ Abyei کی ملکیت کے متعلق ہے۔یہ سوڈان اور جنوبی سوڈان کے بارڈر پر 4 ہزار مربع کلو میٹر کا ایک علاقہ ہے جہاں 2011 میں ہونے والا ریفرنڈم ملتوی ہو گیا تھا۔ اس علاقے میں تیل کے ذخائر بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ اس علاقے میں ریفرنڈم کے ملتوی ہونے کی وجہ ووٹرز کی اہلیت کے حوالے سے اختلافات ہیں۔ دراصل اختلاف کی وجہ یہاں کا ایک خانہ بدوش قبیلہ ہے جس کے بارے میں سوڈان کا موقف ہے کہ ریفرنڈم میں حصہ لے سکتا ہے، اس پر جنوبی سوڈان کا اعتراض ہے کہ یہ ریفرنڈم میں حصہ نہیں لے سکتا۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آج تک ریفرنڈم نہیں ہو سکا اور یہ علاقہ دونوں ممالک کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے۔دوستو غیر منقسم سوڈان کے 75 فیصد تیل کے ذخائر پہلے ہی جنوبی سوڈان کے پاس چلے گئے ہیں لہذا سوڈان ہر صورت Abyei کی ملکیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔آزادی کے بعد یہاں دونوں ممالک کی آرمیز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 1 لاکھ کے قریب لوگ یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں۔خیر اس سب کے باوجود ابھی تک اس مسئلے کا کوئی حل ابھی تک نہیں نکالا جا سکا اور یہ علاقہ دونوں ممالک کے کنٹرول میں  ہے۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کافیہ کنگی(Kafia Kingi)، بلیو نائیل(Blue Nile) اور نیوبا ماونٹین(Nuba Mountains) میں بھی تنازعات چل رہے ہیں۔

 آپسی تنازعات کے علاوہ دونوں ممالک میں کئی طرح کے اندرونی تنازعات کا شکار بھی ہیں، جن میں  سوڈان کے مغربی  دارفور ریجن میں 2003 سے آرمی اور نان عرب باغیوں کے درمیان جاری Conflict ہے۔یہاں ہونے والے پرتشدد واقعات اور  انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سوڈان کو ماضی میں کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ سوڈان اور مصر کے درمیان ہالا ایب(Halaib) کی ملکیت کے حوالے سے بھی تنازعہ جاری ہے، جنوبی سوڈان آزادی کے بعد بھی کئی طرح کے مسائل کا شکار رہا ہے، یہاں 2013 سے 2020 تک اپوزیشن اور حکومت کی فورسز کے درمیان ایک سول وار بھی ہو چکی ہے۔اس  کے علاوہ جنوبی سوڈان کے کانگو اور یوگنڈا کے درمیان بھی بارڈر کے مسائل جاری ہیں۔

 دونوں ہی کافی غریب ممالک ہیں، سوڈان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار گولڈ، زرعی اور پٹرولیم مصنوعات کی برامد پر ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جنوبی سوڈان کی معیشت کا پہیہ زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات کی برامدات سے ہی چلتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment

رابطہ کریں

error: Content is protected!!
urUrdu